بالٹی مور(نمائندہ خصوصی)امریکی مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (آئی سی این اے) کا سہ روزہ 47واں سالانہ کنونشن کووڈ 19کی مہلک وباء کے دوران تعطل کے بعد بالٹی مور میں شروع ہو گیا۔ کنونشن کا آغاز امریکی کانگریس میں با حجاب مسلم خاتون الحان عمر اور اکنا کے صدر ڈاکٹر محسن انصاری کے کلیدی خطاب سے ہوا۔ شرکاء کی رجسٹرڈ تعداد 22ہزار سے زیادہ ہے جس میں خواتین، بچے، بزرگ اور جوان شامل ہیں، کنونشن کے پہلے دن امریکہ کے نامور دینی اسکالر شیخ عبد الناصر جاگڈا، اسامہ جمال، حماس کے رامی کواس، تحفظ انسانی حقوق کے ادارے کئیر کے سیکریٹری جنرل نہاداادوا، طاہر ہرظلہ، امان چوہدری، دانیال فرخ، یوکے اسلامک مشن کے حماد لودھی، اکنا کنیڈا کے اعجاز طاہر، آسٹریلیا اور ناروے کی اسلامی تنظیم کے نجم الثاقب اور رئیس خان، امریکی ریاست کی سینیٹر غزالہ عیسائی اسکالر پیٹر باب رابرٹ، بالٹی مور کے میئر،بنگلہ دیش کی صفیہ پٹا نام اور سمیرا افضل نے خطاب کیا اور کہا کہ اکنا، امریکہ اور کنیڈا میں مسلمانوں کی واحد متحرک و منظم تنظیم ہے جو اتحاد و یکجہتی، فلاح و بہبود اور انسانی حقوق کے تحفظ و آغاہی کیلئے مسلسل جدو جہد کر رہی ہے، یہ جدو جہد مسلمانوں کے درمیان عملی اتحاد و اتفاق اور آئندہ نسل کے لیے امید کی کرن ہے، کنونشن کا موضوع ”دنیا بھر میں منصفانہ عدل کے قیام کی جدوجہد“ ایسا کام ہے جو ہمہ وقت جاری رہنا چاہیے، دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 2ارب سے زائد ہے ان سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ فلسطینی مسلمانوں، کشمیر اور برما کے مسلمانوں سمیت بھارت میں مسلم اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اسرائیل، بھارت اور برما کے حکمرانوں کے خلاف اور وہاں پر ہونے والے ریاستی جبر و تشدد کے خلاف آواز بلند کریں۔
کانگریس کی رکن الحان عمر نے اپنی پُر جوش تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو امن کا سفیر بن دنیا بھر میں یہ پیغام عام کرنا چاہیئے کہ اسلام کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے اور اسلام امن، اخوت و محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے، اللہ تعالی رب العالمین ہیں اور ہمارے نبی ؐ رحمت العالمین ہیں، مسلمانوں کو باطل اور منافقت کے خلاف حق و سچ کا ساتھ دینا اور اس کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔
اکنا کے صدر ڈاکٹر محسن انصاری نے کہا کہ دنیا میں امن اس لیے نہیں ہے کہ مفاد پرستوں نے عدل و انصاف کے بجائے ظلم و جبر کا نظام مسلط کر رکھا ہے اور مسند اقتدار پر دولت کے پجارویوں کا قبضہ ہے، اسے ختم کیے بغیر مظلوموں، محکوموں اور محروموں کو ان کا حق نہیں مل سکتا، تین روزہ کنونشن کے دوران 150پروگرامات ترتیب دیئے گئے اور وسیع و عریض کنونشن سینٹر میں بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں اور شرکاء کی دلچسپی کے لیے مختلف اسٹالز بھی لگائے گئے۔








