بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عمران خان منصوبہ بندی کے تحت وفاق پر چڑھائی کےلئے آئے تھے، وزیرداخلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ وفاق پر چڑھائی کرنے پر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف بغاوت کے مقدمے کےلئے کابینہ کو تجویز دی ہے جس پر ایک ذیلی کمیٹی بنائی گئی ہے ،لانگ مارچ کو روکنے کےلئے پنڈی سے تعاون مانگا نہ انہوں نے تعاون کیا ،منحرف اراکین کو ٹکٹس دینے کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ کرے گا۔نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر عمران خان لانگ مارچ والے دن بنی گالہ میں ہوتے ہیں اور انہیں کے پی کے حکومت کے وسائل میسر نہ ہوتے تو واحد فیصلہ یہی ہوتا کہ ان کو بنی گالہ روک دیا جائے تاکہ وہ شہر میں داخل ہوکر کسی قسم کی بدامنی یا فتنے کا باعث نہ بن سکیں ۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان خیبرپختونخوا سے آرہے تھے تو یقیناً صوبے کی پوری طاقت بشمول فورس انہوں نے اپنے ساتھ شامل کی ہوئی تھی ،وہاں سے انہیں پنجاب اور پھر اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنا قدرے مشکل تھا اور آئندہ بھی مشکل ہوگا لیکن گزشتہ تجربے کی بنیاد پر ہم اس مشکل کا شافی حل تلاش کر چکے ہیں ،اس حوالے سے دو تین اجلاس کئے اور ماہرین کی رائے لی ہے ،اب ہم انہیں کے پی سے بھی داخل نہیں ہونے دیں گے اگر یہ بنی گالہ میں رہتے تو ہمارے لئے یہ کام قدرے آسان ہوتا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بنی گالہ عمران خان کا اپنا گھر ہے وہ آئیں اور اپنے گھر میں رہیں ،جب وہ کسی فساد مارچ کی قیادت کرنے یا اس کا حصہ بننے کی کوشش کریں گے تو یقیناً انہیں روکا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں یہ فتنا فساد ہی صرف جرم نہیں بلکہ اس کی تیاری کرنا بھی جرم ہے ،ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ہم انہیں 120دن تیاری کےلئے دے دیں اور پھر جب یہ دروازے پر آکھڑے ہوں تو ہم کہیں کہ ہم نے آپ کو روکنا ہے ،ان کی تیاری کو بھی روکنا چاہیئے ،ہماری حکمت عملی یہی ہے کہ جس دن یہ لانگ مارچ کا اعلان کریں یا اس کی تیاری شروع کریں گے تو ہم اسی دن ان کو روکیں گے ۔وزیرداخلہ نے کہا کہ فساد مارچ قوم کو تقسیم کرنے ،گمراہ کرنے اور ملک کو تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔اس سوال پر کہ کیا جس دن اب عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کریں گے اسی روز انہیں نظر بند کردیا جائےگا؟رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ حکومت کا ہوگا لیکن میں حکومت کو یہ تجویز ضرور دوں گا کہ پچھلی بار تو ہم نے لانگ مارچ کو روکا اس بار اس کی تیاری کو بھی روکا جانا چاہیے تاکہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوں جس سے دقت پیدا ہو۔انہوں نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق عمران خان کو صرف یہی نہیں پتہ تھا کہ لوگ مسلح ہیں بلکہ انہوں نے باقاعدہ لوگوں کو مسلح ہوکر آنے کا کہا تھا ،جب یہ صوابی سے چلے تھے تو اس وقت بھی انہیں پتہ تھا کہ لوگ مسلح ہیں ،ان کو ایک ہفتہ پہلے سے ہی معلوم تھا کہ لوگ مسلح آئیں گے،یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو مسلح ہوکر آئیں ، انہوں نے دانستہ طور پر وفاق کی اکائی کے دو صوبوں گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی فورسز ،وزرائے اعلیٰ اور ملازمین کو ساتھ لگایا اور وفاق پر چڑھائی کی ،یہ ایک مسلح جتھہ تھا جو اسلام آباد پر چڑھ دوڑنے آیا تھا۔وزیرداخلہ نے کہا کہ 19کیسز ہم نے اسلام آباد میں درج کئے اس کے علاوہ پورے پنجاب میں بھی کیسز درج ہوئے ہیں ،خاص طور پر اٹک اور میانوالی کے مقام پر جہاں انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی اور رکاوٹوں کو توڑا وہاں بھی مقدمات درج ہوئے جن میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں میں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ یہ معاملہ امن وامان سے بڑھ کر ہے ،لانگ مارچ والے دن ان کی منصوبہ بندی اور ارادے امن وامان سے آگے کی بات تھی ،انہوں نے بغاوت کی اور وفاق پر حملہ آور ہوئے اس لئے ان کے خلاف پاکستان پینل کورٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے ،اس معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی بنائی گئی ہے ،اس کمیٹی کو آج (جمعرات) کو بریفنگ دوں گا ،امید ہے کہ اس بریفنگ کے نتیجے میں کمیٹی مقدمے کے اندراج کےلئے سفارش کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ 124اے کے تحت یہ مقدمہ درج ہوگا جس پر گرفتاری بھی بنتی ہے ۔اس سوال پر کہ کیا ان حساس فیصلوں میں عسکری قیادت کی رائے یا مشورہ شامل ہے جس پر وزیرداخلہ نے کہا کہ اس حوالے سے میرے علم میں کوئی بات نہیں ہے،میں دو ٹوک الفاظ میں کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ان کی کوئی رائے یا مشورہ شامل نہیں نہ ہی کوئی رائے لی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دھونس ،دبائو اور دھمکی سے پوری قوم کو آگے لگانا چاہتا ہے ،یہ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان صرف انہی کا ہے اور وہ جو چاہیں گے ہوگا ،عمران خان کے اس رویے کی وجہ سے ہی سیاسی کشیدگی ہے اور اسی رویے کی وجہ سے سخت فیصلے کر رہے ہیں ۔ایک سوال پر وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر چھاپے پڑے تھے تو شیخ رشید چھپ کیوں گیا تھا یہ تو کہتا تھا کہ جیل میرا سسرال ہے ہم انہیں ان کے سسرال میں ہی لے جاتے ۔انہوں نے کہا کہ اگر میں نے 18یا 22قتل کیے ہیں تو ان بے شرموں سے پوچھا جائے کہ جنہیں میں نے قتل کیا ان کے نام کیا تھے ۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک بندہ فساد برپا کرے اور باقی قوم اور ادارے لاتعلق رہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ روکنے کےلئے جو قدم اٹھایا اس میں ہمیں نہ تو پنڈی کی مدد کی ضرورت پڑی اور نہ انہوں نے مدد کی اور نہ ہی انہوں نے کوئی اعتراض کیا۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ نوازشریف واپس آنا چاہتے ہیں ،ہوسکتا ہے کہ جو ان کا آپریشن کافی عرصے سے رکا ہوا ہے اس پر ڈاکٹروں کی انہیں رائے مل جائے تو پھر وہ کوئی فیصلہ کریں ،فیصلہ نوازشریف نے خود کرنا ہے وہ جو مناسب سمجھیں گے کریں گے تاہم میری اور پارٹی کی یہ خواہش ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو واپس آجائیں ،نوازشریف اگر الیکشن سے پہلے واپس آجاتے ہیں تو پھر سونے پر سہاگے والی با ہوگی ۔اس سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ٹکٹ دیے جائیں گے ،رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ پارلیمانی بورڈ کرے گا ،منحرف اراکین میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہیں الیکٹیبلز کہا جاسکتا ہے ،یہ وہیں الیکٹیبلز ہیں جو2018میں ہم سے چھینے گئے تھے اب جب وہ واپس آنا چاہیں گے تو پارٹی فیصلہ کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ جب اتحادی جماعتوں کے سربراہ فیصؒلہ کریں گے کب الیکشن ہوں تو اس وقت ہی ہوں گے ۔اس سوال پر کہ کیا اگلے آرمی چیف کا تقرر شہبازشریف کریں گے ،رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم کریں گے ،اس میں کوئی سوال والی بات نہیں ہے ۔