اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 30روپے فی لٹر اضافہ کردیا۔جمعرات کی شب پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 209روپے 86پیسے فی لٹرہوجائے گی، اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل 204روپے 15پیسے ،لائٹ ڈیزل 178روپے فی لیٹر جب کہ مٹی کا تیل 181روپے 94پیسے فی لٹر کا ہوگا ۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آج بھی ہم ڈیزل پر 54روپے سبسڈی دے رہے ہیں، 31 مئی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت مزید بڑھ گئی ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ بجلی کی قیمتوںمیں اضافے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سستے پیٹرول کی اسکیم شروع کی ہے، جس سے ایک کروڑ چالیس ہزار لوگوں کو دو ہزار روپے ماہانہ دیا جارہا ہے، اس مد میں 28 ارب روپے دیے جائیں گے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ریلیف پیکج کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی ستر روپے فی کلو اور آٹا 40 روپے کلو ملے گا جبکہ چاول، دالوں گھی کی سبسڈی کچھ عرصہ مزید چلے گی مگر چینی اور آٹے کی سبسڈی پورا سال چلے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب دی جانے والی ایمنسٹی اسکیم بھی دو جون سے ختم ہوگئی ہے، جون میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ آئی ایم ایف بجٹ کو بھی دیکھ رہا ہے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بات چیت ہورہی ہے، آئی ایم ایف کی ہر بات نہیں مان سکتے ہیں مگر کچھ مشکل باتیں ماننا بھی پڑتی ہیں، شوکت ترین نے جو آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس سے زیادہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے 26 مئی کو ملکی تاریخ میں پہلی بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر کا بڑا اضافہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ پٹرول ، ڈیزل، مٹی کا تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 179 روپے 86 پیسے، 174 روپے 15 پیسے، 155 روپے 56، 148 روپے 31 پیسے ہو گئی تھی۔
عوام کو ایک اور جھٹکا، پٹرولیم مصنوعات مزید 30روپے فی لٹر مہنگی








