اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان نے حکومت ختم ہونے سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سبسڈی کا اعلان کیا ، سبسڈی کی منظوری کابینہ سے لی گئی نہ ہی اس کیلئے کوئی فنڈز مختص کئے گئے ۔ ہمارے قیمتیں بڑھانے سے کچھ مہینے کی تکلیف ہو گی مگر اس کے بعد استحکام آئے گا۔
اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک نے پریس کانفرنس کی ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کی دی گئی سبسڈی کی قیمت آج عوام ادا کر رہے ہیں ،ملک کو بربادی سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کئے گئے ، کچھ مہینے کی تکلیف ہو گئی مگر پھر استحکام آئے گا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو قیمت خرید سے کم پر پٹرول بیچتا ہو ، پچھلی حکومت نے 30 روپے ماہانہ لیوی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس لیا گیا ،ہم آج وہ نہیں لے رہے ، آج قیمت خرید پوری طرح عوام سے نہیں لی جا رہی ، جس قیمت پر حکوت لے رہی ہے ، اس سے کم پر فروخت کر رہے تھے ۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمت بڑھی ہے ، دوسرا روپے کی قدر میں کمی کے باعث پٹرول مہنگا مل رہا ہے ، بہت مشکل فیصلہ تھا، تین ہفتے جائزہ لیا کہ وہ فیصلہ جو پچھلی حکومت آخری دن کر کے گئی جو آئی ایم ایف کے معاہدوں کی نفی ہے ، اس کا بوجھ اس قدر تھا کہ اگر قیمت نہ بڑھائی جاتی تو معیشت تباہ ہو جاتی ، پھر فیصلہ لیا گیا۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ قرضے لے کر مالیاتی نظام کی نفی کی گئی ، اگر ہم اس قیمت کو برداشت کرتے تو مہنگائی کا سیلاب آتا ہے ، پچھلی حکومت کے حضرات کو چیلنج کرتا ہوں ، ان کے پاس کوئی حل تھا اس معاملے کو قبول کرنے کا کہ قیمت خرید سے کم میں پٹرول بیچتے ، اگر ایک شخص لینڈ کروزر چلاتا ہے تو حکومت ایک لاکھ روپے اسے سبسڈی دے رہی ہے ۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب کسی چیز پر سبسڈی دی جاتی ہے تو اتنے پیسے بجٹ میں رکھے جاتے ہیں کہ کوئی خاص چیز عوام کو کم قیمت میں ملے ، ہمارے بجٹ میں ایک پیسہ بھی پٹرول یا ڈیزل کی سبسڈی میں تھا ، آج سبسڈی سوا ارب روپے تک پہنچ گئی جو اضافی قرضے لے کر ادا کئے جا رہے تھے ، سالانہ سبسڈی اڑھائی ہزار ارب روپے بن جاتی ہے جبکہ دفاعی اخراجات 17 سو ارب کے ہیں ۔
اس موقع پر مصدق ملک نے کہا کہ عمران خان نےحکومت ختم ہونےسےقبل پٹرولیم مصنوعات پرسبسڈی کااعلان کیا، عمران خان نےسبسڈی کی کابینہ سےمنظوری لی نہ فنڈزمختص کیے، ، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپےتھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی، عمران خان حکومت ختم ہونےسےپہلےسبسڈی کااعلان کیوں کرکےگئے؟۔
مصدق ملک نے کہا کہ ، آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،، عمران خان نےکہااگرمیں کھیل نہیں سکتاتوکھیل ہی ختم کردوں گا، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت آج عوام اداکررہےہیں، عمران خان ملک کودیوالیہ کرنےکی طرف لےگئے، ابھی تک ڈھائی سوارب کی سبسڈی دےچکےہیں، آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پرلکھاہےکہ پاکستان وعدہ کرکےآیاہے، ملک کوبربادی اوردیوالیہ ہونےسےبچانےکیلئےمشکل فیصلےکیے، 40 ہزارسےکم آمدن والوں کوسبسڈی دےرہےہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما مصدق ملک نے کہا کہ 35 ہزار کی تنخواہ والے 17 فیصد عوام موٹر سائیکل چلاتے ہیں ، ہم پٹرول کی نوزل پر سب کو سبسڈی دینے کی بجائے موٹر سائیکلوں کو ریلیف دے رہے ہیں ۔









