اسلام آباد(طارق محمودسمیر) حکومت نے پریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی آرڈیننس 2024 جاری کرکے چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے اختیارات میں اضافہ کردیاہیاور چیف جسٹس نے آرڈیننس کے جاری ہوتے ہی بینچزکی تشکیل کے لیے تین رکنی کمیٹی ججزکمیٹی سے ایک سینئرجج جسٹس منیب اخترکی چھٹی کراکرسنیارٹی میں پانچویں نمبرکے جج جسٹس امین الدین کو کمیٹی کارکن بنادیاہے جبکہ سینئرترین جج اور ممکنہ چیف جسٹس منصورعلی شاہ بھی ا س کمیٹی کے رکن ہیں، گوکہ اس آرڈیننس پر مختلف حلقوں اور تجزیہ نگاروں کی طرف سے تنقید کی جارہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حمایت میں فیصلے دینے والے ایک جج کو ججزکمیٹی سے ہٹانے کیلیے ایساکیاگیا،تنقیدکرناہرایک کاحق ہے اورہمارا آئین بھی اظہاررائے کی آزادی دیتاہے،اس آزادی کے استعمال کی حدودبھی آئین میں شامل ہیں،تنقید اگرآئین کی حدوداوراخلاقیات کے دائریمیں کی جائیں توکسی کو ناراض نہیں ہوناچاہئے ،تنقید کرنے والوں کو زیادہ دورنہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننے سے پہلے کے چندواقعات کوبھی ذہن میں رکھناچاہئے،جب سابق چیف جسٹس عمرعطاء بندیال بطورسینئرترین جج قاضی فائز عیسیٰ کونہ تو کسی بنچ کاحصہ بناتے تھے اور نہ ہی ان سے کسی امورپرمشاورت کی جاتی تھی بلکہ اس زمانے میں ایک تین رکنی بنچ مشہورتھا جس کی تشکیل کے وقت ہی بتادیاجاتاتھا کہ کیسافیصلہ آئے گا ؟اس بنچ میں جسٹس (ر)اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اخترشامل ہواکرتے تھے اب دوونوں ریٹائرہوچکے ہیں صرف منیب اخترباقی رہ گئے ہیں،حکومت کو یہ آرڈیننس لانے کا خیال اس وجہ سے آیاکہ حالیہ چند دنوں میں جب آئینی ترامیم لانے کی بازگشت ہورہی تھی اور مولانافضل الرحمان سے مذاکرات جاری تھے تو اسی اثنائمیں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کاجسٹس منیب اخترنے بائیکاٹ کیااوراگلے دن مخصوص نشستوں سے متعلق 8رکنی بنچ کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیاگیا جس پر حکومت کو پریشانی ہوئی اور مخصوص نشستوں کا معاملہ مزید الجھانے اور اسے اپنے حق میں رکھنے کے لیے کئی جتن کئے گئے ،جن میں سے ایک پرعمل کرتے ہوئے سپیکرسردارایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھااور آج قومی اسمبلی سیکرٹریٹ پارلیمانی پارٹیوں کی پوزیشن بھی جاری کی جس میں80 ارکان کو سنی اتحادکونسل کا رکن قراردیاگیا جس سے ایک بات واضح ہوگیاہے کہ سپریم کورٹ کے 12جولائی کے فیصلے پر عملدرآمدنہیں ہورہا،جسٹس عمرعطاء بندیال اوران کے چندساتھیوں نے جہاں دیگرکئی متنازعہ فیصلے کئے تھے ان میں سب سے زیادہ متنازعہ فیصلہ پنجاب اسمبلی کے 20ارکان کے متعلق کیاگیاتھاجس میں یہ قراردیاگیاکہ ان ارکان کا ووٹ بھی نہیں گناجائے گا اور وہ نااہل بھی ہوں گے ،آئین کے آرٹیکل 63 اے میں واضح طور پر لکھاہواہے کہ اگرکوئی رکن پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ دے تو اس کاووٹ گناجائے گاتاہم وہ اسمبلی رکنیت سے محروم ہوجائے گالیکن جسٹس (ر)عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں بنچ آئین کو ری رائٹ کیاجس پر انہیں شدیدتنقید کابھی سامناکرناپڑااور حکومت کی طرف سے اس فیصلے کو ختم کرنے کے لیے مجوزہ26 آئینی ترمیم میں بھی یہ تجویزرکھی گئی تھی کہ 63اے سے متعلق سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کوختم کردیاجائے لیکن عین وقت پر مولانافضل الرحمان نے اڈیالہ جیل کے قیدی کاساتھ دے کرسب کو حیران کردیااور اپنے بھائی لطف الرحمان کی درخواست پر سابق سپیکراسدقیصرکے کھاناکھاکرجو اعلان کیااس کے بعد حکومت کو نئی حکمت عملی بناناپڑی،سابق چیف جسٹس عمرعطابندیال بنچ کے 63اے سے متعلق فیصلے کے خلاف حکومت کی نظرثانی کی اپیل2022 سے سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے اور اب نیاآرڈیننس ا س لئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اس اپیل کی سماعت کے لیے چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ ججزکمیٹی کے جلاس میں پیرکوبنچ کی تشکیل کا فیصلہ کریں گے اور اگر جسٹس منصورعلی شاہ نے چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی رائے سے اختلاف کیاتو پھر کمیٹی میں ووٹنگ سے فیصلہ ہوگااور تجزیہ نگاروں کی یہ رائے ہے کہ جسٹس امین الدین قاضی فائزعیسیٰ کی رائے کے حق میں ووٹ دیں گے اور پھر نیا بنچ تشکیل دیاجائے گاوہاں نظرثانی کی اپیل سنی جائے گی اور اس کافیصلہ بہت اہمیت کاحامل ہوگا۔
پریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی آرڈیننس ،نئی چال کتنی کامیاب؟








