اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایک خصوصی گفتگو میں تحریک انتشار کے دھرنوں اور ان کے مقاصد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انتشار کے مقاصد سمجھ سے بالاتر ہیں اور یہ واضح نہیں کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل عبدالحمید شاہ کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے اپنے گھر سے نکلے تھے، لیکن انتشاری عناصر نے انہیں شہید کر دیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انتشار والے عبدالحمید شاہ کے لواحقین کے دکھ کو کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔
انہوں نے تحریک انتشار کو ملکی معیشت کو ڈی ریل کرنے اور ملک میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کے مطابق اسلحہ سے لیس ہو کر وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرنے والے عناصر کا مقصد پاکستان کی ترقی کو نقصان پہنچانا تھا، کیونکہ تحریک انتشار کو ملک کی معاشی ترقی ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
عطاء اللہ تارڑ نے اسلام آباد پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین طریقے سے سیکورٹی کے فرائض انجام دیے اور کسی قسم کا بڑا جانی و مالی نقصان نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انتشار ایک بار پھر لاشیں گرانا چاہتی تھی، لیکن انہیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے علی امین گنڈاپور پر بھی شدید تنقید کی، جنہوں نے مبینہ طور پر سرکاری وسائل اور اسلحہ لے کر وفاق پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انتشار ملک کو بدنام کرنے کے درپے ہے، لیکن ملک میں پروفیشنل آرمی چیف اور مضبوط قیادت موجود ہے جو ملکی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھتی ہے۔
انہوں نے گنڈاپور کو مشورہ دیا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ احتجاجوں اور دھرنوں پر ضائع کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔









