بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے خیبرپختونخوا حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے صوبے میں جاری حکومتی ناکامیوں اور عوامی مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری نہیں کی گئی، جبکہ صوبے میں تعلیم اور صحت کے حوالے سے کوئی مؤثر منصوبے موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے، اور حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے مکمل طور پر غافل ہے۔ امیر مقام نے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بات نہیں کرتے۔ “کیا بانی پی ٹی آئی کو غزہ کی صورتحال میں اسرائیلی مظالم نظر نہیں آتے؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔ بانی پی ٹی آئی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف کیوں نہیں بولتے جب کہ ان کے اپنے بچے ملک سے باہر ہیں اور وہ دوسروں کے بچوں کو ناحق مروا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا پولیس کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس جدید اسلحہ نہیں ہے، اس کے باوجود وہ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے میں بہادری سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “اب بھی اپنی آنکھیں کھول لیں”۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ کیا علی امین گنڈاپور اپنے آبائی علاقے ڈی آئی خان یا ٹانک میں عوامی جلسہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی بحالی میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے اور صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والے نقصان کی ایف آئی آر بانی پی ٹی آئی اور علی امین گنڈاپور کے خلاف درج ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید اس طرح کے غیر فعال حکومت کو نہیں چلنے دیا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو اپنے کارکنان سے معافی مانگنی چاہیے کہ وہ انہیں احتجاج میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے پختون روایات کا مذاق اڑایا ہے، اور ایسے کوئی بھی دلیر لیڈر اپنے کارکنان کو اکیلا چھوڑ کر نہیں بھاگتا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ جب بھی کوئی عالمی رہنما پاکستان آتا ہے تو بانی پی ٹی آئی دھرنے کا اعلان کر دیتے ہیں، جس سے ملک کو بدنام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا اسلام آباد سے کہاں غائب رہے، اور کارکنان کو ان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کہاں غائب ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالف ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگر صوبے کے حقوق کی بات کی جائے گی تو ہم بھی ساتھ ہوں گے۔ امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کو تیسری بار حکمرانی کا موقع دیا، مگر صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی کوئی تکمیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں کون سا ترقیاتی منصوبہ مکمل کیا ہے؟

وفاقی وزیر نے کراچی میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دشمن ہمیں نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں دو چینی باشندوں کے جانی نقصان پر بہت افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی ملازمین کو زبردستی احتجاج میں شریک کیا گیا، اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سرکاری اداروں کے سربراہان کو بندے لانے کا حکم دیا۔ امیر مقام نے کہا کہ ایک غریب صوبے کے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور وزیراعلیٰ لوگوں کو احتجاج میں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کردار کسی فلمی ولن سے کم نہیں، اور صوبے کو وفاق سے لڑانے کی مزید اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امیر مقام نے خیبرپختونخوا میں سرکاری وسائل کے غیر قانونی استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سرکاری افسران کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کے ملازم ہیں، کسی کے ذاتی ملازم نہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی نے ملک کو دیوالیہ پن پر چھوڑا تھا، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کو سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پوسٹنگز اور ٹرانسفرز کے لیے بھاری رشوت لی جا رہی ہے، اور ہر عہدے کے لیے ریٹ مقرر ہے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ ہم اپنے سیکیورٹی اداروں کو جانی قربانیوں پر سلام پیش کرتے ہیں، اور پی ٹی آئی کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں حکومتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے میں حکومتی اداروں کا وجود باقی نہیں رہا۔