بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت یاپی ٹی آئی کی اتحادی؟ ق لیگ پر مبہم پالیسی کے باعث سوشل میڈیا پر کڑی تنقید

لاہور(ممتازرپورٹ) حکومت یاپی ٹی آئی کی اتحادی؟مسلم لیگ (ق) کو مبہم پالیسی کے باعث سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے۔پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ٹویٹر‘‘ پر ق لیگ مونس الہٰی اور پی ٹی آئی کے اعجاز چودھری نے ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اعجاز چودھری نے اپنے ٹویٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور ق لیگ کے رہنماؤں چودھری سالک اور چودھر ی شافع حسین کی ملاقات کی خبر شیئر کرتے ہوئے ق لیگ پر مرزا غالب کے شعر کا سہارا لیتے ہوئے تنقید کی۔ اعجاز چودھری نے لکھا’’ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔۔دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ‘‘۔اعجاز چودھری کی اس شاعرانہ تنقید کا جواب ق لیگ کے ایم این اے مونس الٰہی نےبراہ راست ان پر چوٹ کرتے ہوئے اوریہ کہہ کر دیا کہ جیسے آزادی مارچ میں کچھ لیڈران نے تھانے میں جا کر گرفتاری دے دی تھی۔مونس الٰہی اور اعجاز چودھری کی اس نونک جھونک پر صارفین نے بھی اپنی کھل کر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ،بیشترصارفین نے (ق) لیگ کی دورخی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ایک طرف چودھری شجاعت حسین حکومت کو فارمولے دے رہے ہیں تو دوسری طرف پرویزالٰہی اور مونس الٰہی اسی حکومت کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دراصل (ق) لیگ کی کوئی ایسی پالیسی نہیں ہے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ یہ پارٹی کلی طور پر کس جانب ہے حکومت یا پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔دوسری طرف میڈیامیں یہ اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے پنجاب میں فارمولا بنا دیا جس کے مطابق پرویز الٰہی  اور مونس الٰہی ٰ بیانات کی حد تک پنجاب حکومت پر تنقید کرتے رہیں گے تاہم اس حد سے آگے بڑھ کر پرویز الٰہی پنجاب حکومت کو غیر مستحکم نہیں کریں گے جب کہ چوہدری پرویز الٰہی ٰ بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی برقرار رہیں گے۔ اس فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور وزراء کو بھی ق لیگ کے خلاف مقدمات اور کارروائیوں سے روک دیا گیا ہے۔