اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ دنیا نے مریخ کی طرف سفر شروع کیا ہے مختلف ممالک خلائی مشن بھیج رہے ہیں ہماری حکومت کشکول مشن پر ہے، کون بڑا کشکول بھر کر لاتا ہے یہی کامیابی ہے، جو جتنا قرضہ لیتا ہے اتنا ہی اپنے آپ کو قابل فخر سمجھتا ہے،کشکول مشن ختم کر کے خود کفالت کو ہدف بنانا ہو گا،میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہے،گرینڈ ڈائیلاگ کی بات جماعت اسلامی گذشتہ ایک ماہ سے کر رہی ہے،اگر تمام سیاسی جماعتیں ایک جگہ نہ بیٹھی تو مزید نقصان ہو گا، معیشت کو سود سے پاک کیا جائے، غریبوں پر بوجھ ڈالنے کی بجائے جاگیردار اور سرمایہ دار قربانی دیں، قومی معیشت کو زکوٰۃ، عُشر اور صدقات پر استوار کیا جائے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے پارلیمنٹ میں لائے جائیں، قوم عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی سے نجات چاہتی ہے، قومی معیشت کب تک غیر ملکی قرضوں کے سہارے چلے گی، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ حکمران قرضے لیں اور ان کا حساب بھی نہ دیں جب کہ تمام بوجھ غریبوں پر ڈال دیا جائے۔ مہنگائی، بے روزگاری نے 22 کروڑ عوام کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، مسائل کا حل قرآن و سنت کے نظام میں ہے، ملک کو جان بوجھ کر اسلامی نظام سے محروم رکھا گیا، قیام پاکستان کے بعد اگر اسلام نافذ ہو جاتا تو مغربی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا، جماعت اسلامی قوم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ انتخابات میں ترازو پر اعتماد کا اظہار کرے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں قائدین جماعت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سراج الحق نے کہا کہ قوم پر مسلط نااہل حکمرانوں کی وجہ سے 7کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملک کی آدھی سے زائد آبادی کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ چولستان میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اگر کہیں پانی ہے تو انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پینے پر مجبور ہیں۔ حکمرانوں کے بنک بیلنس اور جائیدادوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ غریب کھانے کے نوالے کے ترس رہا ہے۔ غربت کی وجہ سے ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ مہنگائی تمام حدیں عبور کر چکی ہے، قرض پر قرضے لیے جا رہے ہیں۔ حکمران ڈمی، پارلیمنٹ میں اپوزیشن موجود نہیں، ملکی فیصلے آئی ایم ایف کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سودی نظام اور کرپشن ام المسائل ہیں۔ تمام مسائل کا حل اللہ کے نظام میں موجود ہے۔ اسلامی معاشی نظام آئے گا تو ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا۔ امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی آئی ایم ایف کے ایما پر پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ جماعت اسلامی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر بجٹ میں ملکی معیشت کو سود فری اور مہنگائی ختم کرنے کے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہم اگلے ہی روز سڑکوں پر ہوں گے۔ عوام کا مقدمہ ہر فورم پر بھرپور طریقے سے لڑا جائے گا۔ قوم حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ مزیدبرداشت کرنے کو تیار نہیں۔ حکومت غیر ترقیاتی اخراجات اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرے۔ جاگیرداروں اور وڈیروں پر ٹیکس نافذ کیے جائیں۔ ملک کی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔ حکمرانوں نے اپنی کرپشن بچانے کے لیے نیب کو ختم کیا۔ سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں ملوث افراد کا احتساب کرے۔ کرپشن کے ہوتے ہوئے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ تینوں جماعتیں بری طرح ناکام ہو گئیں، اب صرف جماعت اسلامی واحد آپشن کے طور پر بچی ہے۔ قوم جماعت اسلامی پر اعتماد کرے کیوں کہ ہم اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں اور اسلامی نظام ہی ملک کے تمام مسائل کا حل ہے۔
میثاق معیشت وقت کاتقاضا،کشکول مشن ختم کر کے خود کفالت کو ہدف بنانا ہو گا،سراج الحق








