حکومت پاکستان نے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے 5 اضافی کارگوز کی خریداری ایک سال کے لیے موخر کردی اور اب معاہدے کے تحت 2025 میں آنے والے کارگوز 2026 میں منگوایا جائے گا۔
وفاقی وزیرپیٹرولیم مصدق ملک نے پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ ملک میں ایل این جی سرپلس ہے، اس لیے قطر سے ایل این جی کے 5 اضافی کارگوز کو موخر کردیا گیا ہے، مزید 5 کارگوز بھی ایک سال کے لیے موخرکیےجانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح یا اسپاٹ ایل این جی کا کوئی اضافی کارگو نہیں منگوایا جارہا، قطر سے 5 اضافی ایل این جی کارگوز کو موخر کردیا اور مزید 5 کارگوز پر بات چیت ہورہی ہے جنہیں موخر کیے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کارخانے ایل این جی نہیں خرید رہے، اس لیے گیس اضافی ہو رہی ہے، درآمدی گیس مہنگی ہونے کے باعث نجی شعبہ ایل این جی نہیں خریدرہا۔
مصدق ملک نے کہا کہ معاہدوں کو منسوخ کرنے کے بجائے انہیں مؤخر کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ مزید 5 کارگوز بھی اگلے سال تک موخر کیےجانے کا امکان ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سعودی عرب کےساتھ موجودہ دور میں2 ارب 80 کروڑ ڈالرز کے ایم اویوز ہوچکے، سعودی عرب کے ساتھ 34 ایم او یوز ہوئے، ان میں 7 معاہدوں میں تبدیل ہوچکے، سعودی عرب کے ساتھ بجلی، آئی ٹی اور فوڈ سمیت دیگر شعبوں میں ایم اویوز ہوئے، پی آر ایل اور سعودی کمپنی کا 1.7 ارب ڈالر کا معاہدہ ہورہا ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ روس سےرعایتی نرخوں پرخام تیل درآمد کرنے کی خبریں بلکل غلط ہیں، روس کےساتھ خام تیل سے متعلق کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میں میڈیا پر آنے والی خبروں کی تردیدکرتا ہوں، جب کوئی اچھی ڈیل ملے گی تو دیکھیں گے۔
یاد رہے کہ قطر، ایل این جی کا سب سے بڑا پیداواری ملک اور برآمد کنندہ ہے اور حالیہ مہینوں میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے اور ایل این جی کی برآمدی منڈیوں میں مزید رسائی حاصل کر رہا ہے۔
اکتوبر کے اواخر میں ڈاکٹر فرید ملک کی زیر سربراہی توانائی کے ماہرین پر مشتمل ایک گروپ نے نئی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ تھر کول سے پیدا ہونے والی گیس درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے سستی ہے، جس سے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس وقت تھر کے کوئلے کو گیس نہیں بلکہ بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم لیبارٹری ٹیسٹ سے پتا چلتا ہے کہ یہ گیس بنانے کے لیے بھی موزوں ہے، جس کا استعمال کھاد، اسٹیل اور ایندھن کی صنعتوں میں کیا جاسکتا ہے۔
قطر سے 5 اضافی ایل این جی کارگوز کی خریداری ایک سال کیلئے موخر








