بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

علی حیدر کو نعت پڑھتے دیکھ کر مداح ناسٹیلجیا کا شکار

90 کی دہائی میں پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں پاپ میوزک کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اس دوران ایسے کئی کلاسک گانے سامنے آئے جو سن کر آج بھی لوگ ناسٹیلجیا میں چلے جاتے ہیں۔

اس دور کو پاکستان کی پاپ انڈسٹری کا عروج مانا جاتا ہے جب وائٹل سائنگز، اسٹرنگز، آواز، جنون جیسے بینڈز کے لوگ دیوانے تھے وہیں کچھ گلوکاروں نے انفرادی حیثیت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور خوب کامیاب رہے۔

ان گلوکاروں میں حدیقہ کیانی، ابرار الحق، علی حیدر، شہزاد رائے اور سجاد علی نمایاں ہیں جن کے گانے گھر گھر مقبول ہوئے۔

علی حیدر نے گلوکار کا آغاز 80 کی دہائی کے اوآخر میں کیا لیکن اصل شہرت انہیں 90 کی دہائی کے اوائل میں ملی۔

1993 میں علی حیدر نے اپنی سولو البم (سندیسہ) ریلیز کی جو ہٹ ثابت ہوئی اور اس کا گانا پرانی جینز اس وقت کے نوجوانوں کی اولین پسند بن گیا۔

علی حیدر نے گلوکاری کے علاوہ اداکاری میں بھی قسمت آزمائی کی اور چند ڈراموں میں بھی کام کیا جبکہ 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘چلو عشق لڑائیں’ میں بھی وہ شامل تھے۔

گلوکار نے 2006 میں شادی کی اور 2009 میں اپنے کم سن بیٹے کی وفات کے بعد گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کرلی اس کے بعد وہ اسلامی کلام پڑھتے نظر آئے۔

تاہم اس کے بعد انہوں نے میوزک میں واپسی اور اب یوٹیوب پر اپنے گانے ریلیز کرتے نظر آتے ہیں۔

علی حیدر مستقل طور پر امریکا میں مقیم ہیں اور پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا سے بالکل غائب ہیں، ایسے میں حال ہی میں ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ نعت پڑھتے نظر آرہےہیں۔

مذکورہ ویڈیو معروف اداکار عدنان صدیقی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کی جو کسی فلاحی تنظیم کے منعقد کردہ ایونٹ کی ہے، اس میں اسٹیج پر موجود علی حیدر ‘یہ سب تمہارا کرم ہے آقا’ پڑھتے نظر آئے۔


اس کے ساتھ عدنان صدیقی نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں علی حیدر کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی شیئر کی اور لکھا کہ ‘انتہائی باصلاحیت، غیر معمولی طور پر عاجز اور ہمیشہ کے لیے نوجوان علی حیدر کے ساتھ معاشرے کے لیے اپنا تھوڑا سا حصہ ڈالتے ہوئے ایک بھرپور شام گزاری۔ جب ہم اس موقع کے لیے بہترین لباس پہنے ہوئے تھے، ‘پرانی جینز’ کی لازوال یادیں اور دلکشی اب بھی بے مثال ہے۔

عدنان کی اس پوسٹ میں سوشل میڈیا صارفین علی حیدر کو دیکھ کر ناسٹیلجا کا شکار ہوئے اور انہوں نے تبصروں میں پرانی یادوں کو تازہ کیا۔

ایک صارف نے کمنٹ کیا کہ ‘2 لیجنڈز ایک فریم، پرانی جینز، آپ دونوں اور میری بچپن کی یادیں۔۔۔ کیا بات ہے!’۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ‘وہ بہترین دور تھا’، جب کہ ایک نے علی حیدر کے ایک گانے کی لائن دہراتے ہوئے لکھا ‘بس یادیں رہ جاتی ہیں’۔

کیو شیخ نامی صارف کا کہنا تھا کہ ‘یا خدا! کیا ٹیون تھی، ناسٹیلجک، محبت، یادیں مجھے 90 کی دہائی میں واپس لے گئیں خوبصورت وقت، خوبصورت لوگ خوبصورت موسیقی’۔