بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بےبی ’لارا’ کی پیدائش پر ورون دھون کا پہلا ردعمل کیا تھا؟

بالی وڈ فلم انڈسٹری کے اداکار ورون دھون نے بیٹی ’لارا’ کی پیدائش کے بعد زندگی میں آنے والی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے اہم راز سے پردہ اٹھادیا۔

سال 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم ’اسٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ میں ’روہن نندا‘ کے کردار سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والے اداکار ورون دھون بالی وڈ فلم انڈسٹری میں اپنا خاص مقام بنا چکے ہیں۔

ورون دھون کی مشہور فلموں میں ‘ہمٹی شرما کی دلہنیا’ ، ‘بدلہ پور’ ، ‘اکتوبر’ ، ‘بدریناتھ کی دلہنیا’ ، ‘کَلنک’ ، ‘سوئی دھاگہ’ اور ‘بھیڑیا’ شامل ہیں۔

ازدواجی زندگی کی بات کریں تو ورون دھون نے 24 جنوری 2021 کو اپنی زندگی کی محبت، بچپن کی دوست اور ڈیزائنر نتاشا دلال سے شادی کی تھی جن کے امید سے ہونے کا اعلان رواں سال فروری میں کیا گیا۔

بعدازاں 3 جون کی رات نتاشا دلال کے ہاں بیٹی ’لارا ’کی پیدائش ہوئی جس پر دھون اور دلال خاندان کے افراد خوشی سے جھومتے نظر آئے۔

بیٹی کا خیر مقدم کرنے کے بعد سے ہی ورون دھون ایک باپ ہونے کی حیثیت سے بیٹی کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے مزید ایک اور انٹرویو دیا جس میں اداکار نے لارا کی پیدائش کے بعد زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر بات کی۔

ورون دھون کا کہنا تھاکہ،’جب نتاشا نے لارا کو جنم دیا، تو میرے جسم اور روح میں پہلا خیال یہ آیاکہ میں اپنے والد کے ساتھ کیسے برا ہو سکتا تھا؟’

اداکار کا کہنا تھا کہ،’ایک چیز ہوتی ہے، والد بننا، خاص طور پر جب ایک مرد لڑکی کا والد بنتا ہے۔ وہ بہت ہی الگ احساس ہوتا ہے۔ پورا انسان ہل جاتا ہے، یہ سمجھ کر کہ آپ کی سوچ مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ جو چیزیں آپ کی ماں بچپن میں سکھاتی تھیں، وہ سب دوبارہ آپ کے دماغ میں آنے لگتی ہیں۔’

اداکار کا مزید کہنا تھا کہ،’جب نتاشا نے لارا کو جنم دیا، تو میرے اندر پہلا خیال یہ آیا کہ کوئی اپنے والدین کے ساتھ برا سلوک کیسے کر سکتا ہے؟ خاص طور پر اپنی ماں کے ساتھ، جنہوں نے نو مہینے آپ کو پال پوس کر بڑا کیا’۔

ورون کے مطابق والد بننا ان کے لیے ایک دیوانہ پن اور شاندار تجربہ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے بہت کچھ سیکھا اور یہ سمجھا کہ مرد ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔ انہوں نے اپنی فلم کے ایک مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “آ آ، ہاتھ لگا کے دکھا میری بیٹی کو”، یہ لائن میرے دل سے نکلی تھی۔’