اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کردی، جس کے بعد ملک کی شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا، جس میں شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کردی گئی، کمی کے بعد شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی۔
اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پانچواں مسلسل ریٹ کم کردیا، اس ماہ مہنگائی کی شرح میں 4.9 فیصد کمی ہوئی۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 2 فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پالیسی ریٹ کا 13 فیصد پرآنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے، پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔
کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے، امید کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی، وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود 250 بیسس پوائنٹس کم کی تھی جس کے بعد وہ 15 فیصد پر آگئی تھی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس نے بنیادی پالیسی ریٹ 250 بیسس پوائنٹس کم کرکے 15 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 5 نومبر 2024 سے نافذ العمل ہوگا۔
بیان کے مطابق کمیٹی نے نوٹ کیا تھا کہ مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے نیچے آئی ہے اور اکتوبر میں اپنے درمیانی مدت کے ہدف کی حد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
مزید روشنی ڈالی گئی تھی کہ غذائی مہنگائی میں تیزرفتار تنزلی، عالمی سطح پر تیل کی موافق قیمتیں، متوقع گیس ٹیرف اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو ایڈجسٹ نہیں کی گئیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کم ہوئی۔
مزید کہا گیا تھا کہ زری پالیسی کمیٹی اب یہ توقع کرتی ہے کہ مالی سال 2024 کے لیے اوسط مہنگائی پچھلی پیش گوئی کی حد 11.5 سے 13.5 فیصد سے نمایاں طور پر کم رہے گی۔
مزید بتایا گیا تھا کہ کمیٹی کا یہ تجزیہ بھی تھا کہ یہ منظرنامہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کشدگی، غذائی مہنگائی کے دباؤ کے دوبارہ ابھرنے، سرکاری قیمتوں میں ایڈہاک ردو بدل اور محصولات کی وصولی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کے نفاذ جیسے خطرات سے مشروط ہے۔
زیادہ تر ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ مرکزی بینک 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا، شرح سود میں جون کے بعد مسلسل چوتھی کٹوتی ہے، جس کی بنیادی وجہ مہنگائی میں کمی، کم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور زیادہ ترسیلاتِ زر کا ہونا ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 7.17 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی رفتار 6.9 فیصد کے ساتھ 44 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔
یاد رہے کہ 10 جون 2024 کو اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 4 سال بعد کمی کا اعلان کرتے ہوئے اسے 1.5 فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد بنیادی شرح سود 22 سے کم ہوکر 20.5 فیصد پر آگئی تھی۔
بعد ازاں، 29 جولائی کو کراچی میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے شرح سود 20.5 فیصد سے کم کرکے 19.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے بعد 12 ستمبر کو اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے 17.5 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی،وزیراعظم کاخیرمقدم








