نومنتخب امریکی صدر کے نامزد مشیر نامزد مشیر برائے اسپیشل مشن رچرڈ گرینل نے کہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہا کیا جانا چاہیے۔
نومنتخب امریکی صدر کے نامزد مشیر نامزد مشیر برائے اسپیشل مشن رچرڈ گرینل نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ عجیب و غریب بیان سے میتھیو ملر بھی یہی کہنا چاہ رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے لیکن میں دبے الفاظ میں نہیں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عقل وفہم رکھنے والے غیر روایتی سیاستدان، کاروباری لوگ ملک بہتر چلا سکتے ہیں، اسی لئے میں چاہتا ہوں بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہا کیا جائے۔
رچرڈ گرینل نے انٹرویو میں کہا بانی پی ٹی آئی پر صدرٹرمپ کی طرح کرپشن کے بہت سے جھوٹے الزامات ہیں، بانی پی ٹی آئی کو بھی پاکستان کی حکمران جماعت نے جیل میں ڈالا، وہ وزیراعظم کیلئے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں تو عوام کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔
نومنتخب امریکی صدر کے نامزد مشیر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں پاکستان سے تعلقات بہت اچھے تھے، بانی پی ٹی آئی کے بطور وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ سے اچھے تعلقات تھے، بانی پی ٹی آئی سسٹم سے باہر کے آدمی تھے اس لئے ٹرمپ سے تعلقات اچھے تھے، بانی پی ٹی آئی سابق کرکٹر ہیں روایتی سیاستدان نہیں اس لئے صاف بات کرتے ہیں۔
رچرڈ گرینل نے مزید کہا پاکستان میں بہت سارے معاملات کو بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ چار سال نظر انداز کیا اور کوئی پیشرفت نہیں کی، بائیڈن انتظامیہ بھی اب جاتے جاتے ایسے دکھانا چاہ رہی ہے جیسے انہیں بہت پرواہ ہے اور پاکستان میں معاملات پر پیشرفت چاہتی ہے۔
رچرڈ گرینل نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد وزیرخارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات کرنے کی تیاری کی ہوئی ہے۔
امریکی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے رچرڈ گرینل نے کہا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملکوں سے مختلف انداز میں ڈیل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد وزیرخارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات کرنے کی تیاری کی ہوئی ہے۔
ان کا کہناتھاکہ بائیڈن انتظامیہ جوکام چار سال میں کرنے میں ناکام رہی وہ آخری 45 دن میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک سوال پر رچرڈگرینل نے کہا کہ گزشتہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس وقت کے پاکستانی سربراہ حکومت سے بہترین تعلقات تھے، پاکستان کی جیل میں قید رہنما ٹرمپ کی طرح سیاست میں آؤٹ سائیڈر تھے،کامن سینس کی بات کرتے تھے۔
ان کا کہناتھاکہ چاہتے ہیں سابق وزیراعظم کو رہا کیا جائے ان پر ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ٹرمپ پر تھے، ترجمان محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پیچیدہ گفتگو کی، اصل بات یہی ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم کو رہا کیا جائے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کے چار اداروں پر پابندی لگائی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیوملر کے مطابق ان چار پاکستانی اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔
امریکی پابندیوں کا شکار ہونے والے پاکستانی اداروں میں اسلام آباد کا نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس اور کراچی میں قائم 3 ادارے اختر اینڈ سنز، ایفیلی ایٹس انٹرنیشنل اور روک سائیڈ انٹرپرائیزز شامل ہیں۔
ایک تقریب سے خطاب میں امریکا کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی جان فائنر نےکہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے جو اسے جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بناسکتے ہیں۔
امریکا کی جانب سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون کرنے پر 4 کمپنیوں پر پابندی کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا امریکی فیصلہ متعصبانہ ہے، پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔









