کابل: افغانستان میں طالبان نے خواتین کے واحد ریڈیواسٹیشن ”ریڈیو بیگم“ پرچھاپہ مارا اوراس کے آپریشن کو معطل کردیا۔
یہ اقدام خواتین کو عوامی زندگی اور معاشرتی سرگرمیوں سے باہر کرنے کی ایک اورکوشش ہے، جو طالبان کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے جاری ہے۔
طالبان کے وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ ریڈیو بیگم کو متعدد خلاف ورزیوں کی بنیاد پرمعطل کیا گیا یہ چھاپہ افغانستان میں مقامی میڈیا کے حوالے سے جاری تحقیق کا حصہ تھا۔
ریڈیو بیگم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان حکام نے اس کے دفترکی تلاشی لی، کمپیوٹرز، ہارڈ ڈرائیوز، فائلز اورفونز قبضے میں لے لیے اور دو مرد ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
ادارے نے مزید کہا کہ وہ حراست میں لیے گئے ملازمین کی حفاظت کی فکرکرتے ہیں، اس لیے مزید تبصرہ نہیں کر سکتے، حکام سے درخواست کی کہ انہیں جلد رہا کیا جائے۔
طالبان کے وزارت اطلاعات و ثقافت نے سوشل میڈیا پر بیان میں ریڈیو بیگم کے معطل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس پر پالیسی کی خلاف ورزی اور غیرمناسب طریقے سے لائسنس کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، اسٹیشن پریہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ غیرملکی ٹیلی ویژن چینل کو مواد فراہم کر رہا تھا۔
اس حوالے سے ریڈیو بیگم نے واضح کیا کہ وہ کبھی بھی کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا اور افغان خواتین کی خدمت کرنے کیلئے پرعزم تھا۔
افغانستان :طالبان کا خواتین کے واحد ریڈیواسٹیشن پر دھاوا ، نشریات بند کردیں








