اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہےکہ ہم امپورٹڈ نہیں اسی ملک میں پیداہوئے اور اسی میں مریں گے،اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا بہت ضروری ہے، جلد معاہدہ ہوجائے گا پھرچیزیں بہتر ہوناشروع ہوجائیں گی،جولائی تک پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم نہ کی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا،دو تین ماہ میں مہنگائی پر قابوپالیں گے،ماہانہ دو ہزار روپے کے لئے چالیس لاکھ لوگوں نے اپلائی کرلیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کے ساتھ بہترمعاہدے نہیں کئے ،وہ آئی ایم ایف کے ساتھ بولتی کچھ اور تھی اور کرتی کچھ اور تھی۔انہوں نے کہاکہ میرامقصد آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنانہیں، اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا بہت ضروری ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے،آئی ایم یف نے کہا ہے کہ پٹرول پر سبسڈی ختم کریں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ جلد معاہدہ ہوجائے گا پھرچیزیں بہتر ہوناشروع ہوجائیں گی۔انہوں نے کہاکہ ہم امپورٹڈ نہیں اسی ملک میں پیداہوئے اور اسی میں مریں گے۔ایک سوال پر مفتاح اسماعیل نے کہاکہ چین سے اگر پیسے آجائیں گے تو اعتماد بحال ہو گاتاہم انہوں نے کہاکہ دوست ممالک کے پیسوں سے ملک نہیں چلتے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کو یقین تھا کہ ان کی چھٹی ہونے والی ہے اس لئے انہوں نے لمباشارٹ کھیلا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ہم نے ریٹیلرز پر ٹیک عائد کیا ،دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں،مزید گیارہ لاکھ امیروں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔ایک اور سوال پر مفتاح اسماعیل نے کہاکہ یوٹیلٹی سٹوروں پر آٹے کی کوالٹی کی شکایات ہیں ،مجھے بھی کئی لوگ شکایت کرچکے ہیں کہ آٹے کی کوالٹی ٹھیک نہیں ہے،چار سال کی بدانتظامی کو راتوں رات ٹھیک نہیں کیا جاسکتا ،اس ملک میں سٹرکچرل مسائل ہیں ،مسائل ہوتے ہیں کوئی حل ہی نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے تاہم مہنگائی کی شرح 25سے 30فیصد تک نہیں جائے گی،دو تین ماہ میں مہنگائی پر قابوپالیں گے، گندم درآمد کرنے کے لئے مجبور ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ ماہانہ دو ہزار روپے کے لئے چالیس لاکھ لوگوں نے اپلائی کرلیا۔دریں اثناپوسٹ بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ اگر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی بحالی کے لیے معاہدہ نہ ہوا تو دیگر قرض دہندہ اداروں سے بھی ہمیں ایک پیسہ نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سری لنکا نے بے وقوفیاں کریں، درست فیصلے نہیں کیے، آئی ایم ایف کو کہا کہ بھاڑ میں جاؤ جس کی وجہ سے آج دیوالیہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا روپیہ 100 فیصد سے زائد گر چکا ہے وہاں ایندھن مہنگا اور دوائیوں کی قلت ہوگئی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان ایک باوقار ملک ہے ہمارے پاس جوہری اثاثے ہیں، فوج ہے، اتنی بڑی آبادی ہے تو ہم ایسے کیوں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں 600 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ہیں، بنگلہ دیش کا اس سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہم سے زیادہ ہے لیکن ان کے پاس 40 سے 50 ارب ڈالر ہیں اس لیے وہ اتنا مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب کوئی نیا وزیراعظم، صدر بنتا ہے اسے چین، سعودی عرب جانا پڑتا ہے پیکجز لانے پڑتے ہیں، یہ کس طرح کا طریقہ ہے، جب تم آپ دوستوں کے پیسے سے کام کریں گے کبھی بھی آگے نہیں بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ آگے ہم اس دن بڑھیں گے جب اس پیسے پر لعنت بھیج کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کریں گے ورنہ تاریخ ہمیں بہت برے انداز میں یاد رکھے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم ا1،س سے بہتر ہیں، جب بنگلہ دیش اور پاکستان الگ ہوئے تھے اس وقت مغربی پاکستان کی فی کس جی ڈی پی 50 فیصد زیادہ تھی بنگلہ دیش کے پاس صرف پٹ سن کے سوا کوئی برآمدات نہیں تھی اور طوفانوں سے متاثرہ ملک تھا۔
جولائی تک پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم نہ کی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا، مفتاح اسماعیل








