بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب کا بجٹ پیش نہ کیا جا سکا، اجلاس منگل دوپہر ایک بجے تک ملتوی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کا بجٹ پیش نہ کیا جا سکا، اجلاس منگل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا، پنجاب کا مالی سال 23-2022ء کا بجٹ آج (پیر کی) دوپہر 2 بجے پیش ہونا تھا تاہم ایڈوائزری کمیٹی میں ڈیڈ لاک کے باعث اجلاس تقریباً 6 گھنٹے تاخیر سے ساڑھے 8 بجے کے قریب شروع ہوا، جو عطاء تارڑ کی موجودگی کے باعث ملتوی کردیا گیا تھا۔

ن لیگی رہنماء عطاء تارڑ کے ایوان سے باہر جانے کے بعد ایک بار پھر اجلاس شروع ہوا، جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی بجٹ پیش کرنے کیلئے شرط رکھ دی۔
ان کا کہنا ہے جب تک چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب ایوان میں نہیں آئیں گے بجٹ پیش نہیں ہوگا۔ کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں بلایا جائے۔
انہوں نے ن لیگی رہنماء ملک احمد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کو بلالیں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کے اسمبلی نہ آنے پر اجلاس منگل کو دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔
اس سے قبل پنجاب اسمبلی کی ایڈوائزری کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہوگیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 6 گھنٹے بعد ساڑھے 8 بجے کے قریب پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایڈوائزری کمیٹی میں آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کی جانب سے معافی کے معاملے پر ڈیڈ لاک شروع ہوا، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ دونوں افراد اسمبلی میں آئیں اپوزیشن سے معافی مانگیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 4 گھنٹے سے جاری مذاکرات کے بعد بالآخر معاملات طے پاگئے۔ حکومت نے اپوزیشن کو پیشکش کی تھی کہ جو بھی معاملات میں اسمبلی میں آکر اس پر بات کریں، بجٹ اس کے بعد پیش کرلیں گے، اپوزیشن نے حکومت کی پیشکش قبول کرلی۔
معاملات طے پانے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 5 گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع ہوگیا، اجلاس میں اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی موجود ہیں۔
عطاء تارڑ کی موجودگی پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین آمنے سامنے آگئے، اسپیکر نے ن لیگی رہنماء کو باہر نکالنے کا حکم دیدیا۔
پرویز الٰہی نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عطاء تارڑ کو ایوان سے باہر نکالا جائے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے دھمکی دی کہ اگر 10 منٹ میں عطاء تارڑ ایوان سے نہ گئے تو اجلاس ملتوی کردوں گا، حکومت نے عطاء تارڑ کے ایوان سے باہر جانے کیلئے 10 منٹ کی مہلت مانگ لی، حکومتی ارکان کے سمجھانے کے باوجود عطاء تارڑ ایوان سے باہر نہ گئے۔
حکومتی ارکان نے سپیکر سے 10 منٹ کيلئے اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کردی، جس پر سپیکر نے عطاء تارڑ کے ایوان سے باہر جانے کیلئے اجلاس 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔
اجلاس ہنگامہ آرائی کے باعث ایک گھنٹے التوا کے بعد دوبارہ شروع ہوا تھا اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی اسمبلی ایوان میں پہنچ گئے تھے۔
تاہم اجلاس شروع ہونے پر اسپیکر پرویز الٰہی نے ایک اور رولنگ دیتے ہوئے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بھی ہاؤس میں لانے کا حکم دیا اور کہا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری نہیں آئے تو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
اسپیکر کا کہنا تھا کہ حکومت کی آئی جی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلانے کی ہمت نہیں ہو رہی، پچھلے بجٹ کے وقت آئی جی،چیف سیکرٹری ایوان میں موجود رہتے تھے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے کہا کہ بجٹ کے وقت آئی جی،چیف سیکرٹری کا ایوان میں موجود ہونا ایوان کی عزت ہے۔
بعد ازاں اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے اجلاس کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔
دوسری جانب صوبائی وزیر اویس لغاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 3 ماہ سے انہوں نے پنجاب اسمبلی کو پہلوانوں کا اکھاڑا بنایا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکرپرویزالٰہی نے آئین کی دھجیاں اڑانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا، ہمارا عوامی بجٹ تک سننا گوارا نہیں کیا گیا۔
اس کے علاوہ صوبائی وزیر اور رہنما مسلم لیگ ن عطا اللہ تارڑ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ گورنر ہاؤس جاکر بیٹھے کیونکہ یہ سازشی ذہن کے لوگ ہیں، حمزہ شہباز نے بطور نومنتخب وزیراعلیٰ کوئی غیر آئینی،غیرقانونی قدم نہیں اٹھایا۔
ان کا کہنا تھاکہ ہم نے آئین وقانون کے مطابق بجٹ اجلاس طلب کیا، ہم تنخواہوں میں اضافے،سستی گھی آٹا ،سولر پینل کی بات کرنے جارہے تھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسپیکر کی جانب سے عطا تارڑ کو ایوان سے نکل جانے کے حکم کے بعد عطا تارڑ نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 12 کروڑ عوام کا بجٹ ہے میں بجٹ کو روکنا نہیں چاہتا۔