بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پٹرول24.3، ڈیزل59.16،مٹی کا تیل 29.49روپے مہنگا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پٹرول کی قیمت 24روپے 3 پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل 59روپے 16پیسے، لائٹ ڈیز ل29روپے 16پیسے اورمٹی کے تیل کی قیمت میں 29روپے 49پیسے فی لیٹراضافہ کردیاگیا۔ منگل کی شب وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 233روپے89پیسے ہوگئی، ڈیزل کی نئی قیمت 263روپے 32پیسے، لائٹ ڈیزل 207روپے 47پیسے جب کہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت فی لیٹر 211روپے 43پیسے ہوگئی ہے ۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل ہے،پٹر ول کی مد میں ماہانہ120روپے سبسڈی دے رہے تھے ، اس وقت پٹرول کی قیمت میں 24روپے فی لیٹر نقصان کررہے ہیں۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب پیٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں کوئی نقصان برداشت نہیں کرے گی۔میں نے کبھی ملکی حالت میں اتنا بگاڑ نہیں دیکھا، جس کی وجہ عمران خان کی نااہلی، کورونا کے بعد ہونے والی عالمی سطح پر مہنگائی ہے، اس دوران پاکستان دنیا کا تیسرا مہنگا ترین ملک بن گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مسلم لیگ ن کو دبوچنے کے لیے ایک جال بچھایا پھر آئی ایم ایف سے معاہدے کیے، اب ہم ان ہی معاہدوں پر عمل پیرا ہیں اور انشاء اللہ ہم اس میں کامیاب ہوجائیں گے، سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے 30 روپے فی لیٹر پیٹرول لیوی اور ٹیکس لگانے کا معاہدہ کیا تھا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’جب خان صاحب چھوڑ کر گئے تو عالمی مارکیٹ میں پیٹرول 80 سے 85 ڈالر تھا آج قیمت اضافے کے بعد 120 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اس کے باوجود ہم پیٹرول سستا فروخت کررہے تھے اور آج بھی دنیا کے اعتبار سے قیمتیں کم ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہم بھی مجبوری میں سب جاننے کے باوجود بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں، وزیراعظم نے پیٹرول اسکیم بھی اسی وجہ سے متعارف کروائی جس کے تحت 80 لاکھ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ جون سے مزید 60 لاکھ لوگوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ ’کورونا کے دور میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرول 6 اور 7 ڈالر میں دستیاب تھا مگر ہم نے اُس سے فائدہ نہیں اٹھایا، ہم نے پہلے بھی مشکل فیصلے کیے اور آئندہ بھی کریں گے، یہ مشکل چند مہینوں کی ہوگی مگر امید ہے کہ ہم جلد اس سے نکل جائیں گے، ہم نے ویسے ہی بجٹ میں غریبوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جبکہ امیروں پر نئے ٹیکس لگائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے ملک کے حالات میں کبھی اتنابگاڑ نہیں دیکھا ،عمران خان نے جان بوجھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی،انہوں نے جو معاہدے کئے ان کی وجہ سے ہمارے ہاتھ جکڑے ہوئے ہیں،اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ہم جلدان برے حالات پر قابو پالیں گے۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ 80لاکھ پاکستانیوں کو دوہزار روپے دے دیئے ہیں۔