بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فیٹف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے پر آمادہ،حتمی فیصلہ اکتوبر میں کیا جائے گا،اعلامیہ

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک )فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کےلئے تمام شراط پوری کر لی ہیں ، فیٹف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔برلن میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین مکمل اجلاس میں شرکت کی، مبصرین میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس شامل تھے۔
اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کی ۔جمعے کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں چھ دن سے جاری اجلاس کے آخری دن پاکستان کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے۔ ورچوئل اجلاس نے جمعرات کو پاکستان کی جانب سے مطلوبہ نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا تھا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیٹف کے صدر ڈاکر مارکس پلیئر نے کہا کہ پاکستان نے تمام شرائط مکمل کرلی ہیں، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان نے 34 اہداف حاصل کیے، پاکستان کی کارکردگی کو رکن ملکوں نے سراہا ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کے اہداف حاصل کیے اس لیے ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔
فیٹف کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ یہ ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس تھا، کورونا نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو متاثر کیا، ایف اے ٹی ایف نے ڈیجٹل مانیٹرنگ بہتر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ملکوں نے بہت محنت کی ہے جبکہ ہمیں روس اور یوکرین جنگ پر تحفظات ہیں جبکہ پاکستان نے بہترین کارکردگی دکھائی۔
دیں اثناء اجلاس کے اختتام پرجاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان نے دونوں ایکشن پلان پر وقت سے پہلے عمل درآمد کیا ،انسداد منی لانڈرنگ ، دہشت گردی کی معاونت روکنے کےلئے بہترین اقدامات کئے ۔دوسال میں پانچ مرتبہ انسداد دہشت گری اقدامات کا جائزہ لیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے بہت محنت کی گئی ، 2018کے بعد تمام اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے سے متعلق حتمی فیصلہ اکتوبر میں کیا جائے گا ، اس ضمن میں فیٹف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا تاہم یہ دورہ کورونا کی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا ۔
یاد رہے کہ جون 2018 میں گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد گذشتہ چار سال سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی اس فہرست میں موجود ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے گذشتہ ماہ یورپ کے اہم ممالک کا دورہ کیا تھا اور یورپ کو ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے سٹیٹس کے حوالے سے پاکستانی موقف کی حمایت کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے بھی پاکستان کا حال ہی میں دورہ کیا تھا جبکہ ایف اے ٹی ایف کی صدارت بھی اس وقت جرمنی کے پاس ہے اور اجلاس بھی برلن میں ہوا۔
اس سال مارچ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کے بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ پر غور کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کر لیا ہے۔
فیٹف کیا ہے؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے جو جی 7 ممالک (امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) کی ایما پر بنایا گیا، اس ادارے کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیے گئے دہشت گردوں کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف کس طرح کام کرتی ہے؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 1989ء میں تقریباً 33 سال قبل جی 7 ملکوں نے فرانس میں منعقدہ اجلاس میں کیا تھا، بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوچکی ہے، ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے، اس تنظیم کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ممالک تک ہے۔
ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا، امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی دہشتگردی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے بعد اکتوبر 2001 میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012 میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔
ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔
اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پرعملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونیوالی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کیلئے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔
ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔