بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت نے مہم جوئی کی، تو انجام وہی ہوگا جو پہلے ہو چکا ہے،معید یوسف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) معروف تجزیہ کار اور علاقائی اُمور کے ماہر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کودئیے گئے انٹرویو میں کہاکہ اگر آج وزیر اعظم شہباز شریف انہیں فون کر کے رائے مانگیں، تو وہ انہیں ایسے نکات پر عمل کا مشورہ دیں گے جو جنوبی ایشیا میں امن، حقیقت پسندی اور تدبر پر مبنی تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔معید یوسف کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو سب سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کر کے براہ راست بات کرنی چاہیے اور پوچھنا چاہیے کہ کیا دونوں ممالک واقعی خود کو مکمل تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں؟ کیا صرف نعرے بازی اور عوامی جذبات کو بھڑکانا مقصود ہے یا ہم ایک ایٹمی ماحول میں جنگ کے لیے سنجیدہ ہو چکے ہیں؟ ان کے بقول، بھارت کے اصل عزائم کو سمجھنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ چاہے وہ جس انداز میں بھی پیش آئے، پاکستان ایک حقیقت ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ مودی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ ایک کشیدہ اور جمود زدہ تعلق چاہتے ہیں یا پھر مہذب ہمسایوں کی طرح امن، ترقی اور باہمی تعاون کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ 25 کروڑ پاکستانی عوام کے جذبات پر قابو نہیں پا سکتے جو بھارت کی بلوچستان میں مداخلت اور دیگر اقدامات کو روز دیکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر بھارت پہل کرتا ہے، تو اس کے بعد کے حالات کسی کے قابو میں نہیں ہوں گے، خاص طور پر ایک جوہری ماحول میں۔معیدیوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو موجودہ روش پر قائم رہنا چاہیے، جہاں بھارت کے ساتھ کشیدگی اب ملک کے میڈیا میں سرفہرست موضوع نہیں۔ پاکستان کو معیشت، تعلیم، توانائی اور صحت جیسے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، اور بھارت اگر جنگی جنون میں مبتلا رہنا چاہتا ہے تو رہنے دیں۔آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت داخلی دباؤ کا شکار ہیں، اور بھارتی فوج گزشتہ ناکامیوں کا بدلہ لینے کے لیے کچھ غیر دانشمندانہ قدم اٹھا سکتاہے۔ اس لیے پاکستان کو ہر حال میں تیار رہنا چاہیے، کیونکہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی، تو انجام وہی ہوگا جو پہلے ہو چکا ہے۔