پیرس (ویب ڈیسک ) فرانس نے مسلمان خواتین پر سوئمنگ کے دوران بُرکینی (پورا جسم ڈھانپنے والا سوئمنگ سوٹ) پہننے پر عائد پابندی اٹھا لی۔
اس فیصلے سے مسلم خواتین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،میئر ایریک پیولی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ 30 برس قبل فرانس میں کیتھولک مذہب کی نشانیاں موجود تھیں لیکن اب فرانس میں زیادہ واضح نظر آنے والا مذہب اسلام ہے اور یہ کچھ لوگوں کےلیے گھبراہٹ کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو عوامی مقامات پر اپنے مذہبی جذبات کا اظہار کرنے میں کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
فرانسیسی شہر گرینوبل کے میئر ایریک پیولی نے مسلمان خواتین کے سوئمنگ کے دوران بُرکینی پہننے پر عائد پابندی ختم کردی، جو مسلم خواتین کیلئے باعث مسرت ہے۔
شہر کے میئر نے کہا کہ برکینی پر پابندی لگانے کوئی وجہ نہیں تھی، مسلمان خواتین عوامی سوئمنگ میں پورے جسم کو ڈھانپنے والے کپڑے (برکینی) پہن کر سوئمنگ کرسکتی ہے۔









