بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے قیامت تک یاد رکھےگا، وزیراعظم

کراچی:  وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھےگا۔
کراچی میں نیوی کے افسران و جوانوں سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح پوری اپنی افواج کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی ہے،   جس طریقے سے ہماری بری فوج نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے، اسی طرح ہماری فضائیہ نےدشمن کے ٹھکانوں پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے وہ سبق سکھایا جو وہ قیامت تک رہے گا، اسی طریقے سے ہماری بحریہ کی تیاری ویسے ہی تھی جیسی بری فوج اور بحریہ کی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری بحریہ اس بار بھی تیار تھی کہ دوارکا کی تاریخ کو دوبارہ دہرایا جائے مگر ہماری بحریہ کی تیاری دیکھ کر دشمن کی ہمت نہیں ہوئی، اور جس طرح بری فوج اور فضائیہ نے مل کر اس کی پٹائی تو شائد وہ مزید رسوا ہونے کے لیے تیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ تاریخ کا ایک قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی اور آئندہ کے لیے بھی ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ میں اس موقع پر پی این ایس مہران کے شہید لیفٹیننٹ یاسر کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے جان کی پروا کیے بغیر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوکر اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان کے وقار اور بحری اثاثوں کے اوپر آنچ نہیں آنے دی، یہ تمام غاذی اور شہدا ہماری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی حالیہ ناکام اور ہزیمت آمیز مہم جوئی میں دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ ہماری بحریہ مکمل طور پر تیار تھی، بھارت کا فخریہ ایئرکرافٹ کیریئر وکرانت 400 ناٹیکل میل سے قریب آنے کی جرات نہیں کرسکا، یہ بے مثال دفاعی حکمت عملی اور جوانوں کے غیرمتزلزل عزم کی زندہ مثال ہے۔

  وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’مین آف پیس‘ قرار دیا اور کہا کہ ’انہوں نے صدق دل سے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دل کی گہرائیوں سے اُن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’برادر اور دوست ملکوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور حوصلہ افزائی کی۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر طیب اردوغان، متحدہ عرب امارات کے سربراہ، قطر کے امیر، آذربائیجان کے صدر، اور دیرینہ دوست چین کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘