اسلام آباد (ممتاز رپورٹ)مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اورسابق وفاقی وزیر اعجاز الحق سابق وزیراعظم عمران خان اور مقتدر حلقوں کے درمیان رابطہ کار بن گئے ،اعجاز الحق کی گزشتہ دس روز کے دوران عمران خان سے متعدد ملاقاتیں ، مقتدر حلقوں کے پیغامات تک پہنچائے، پی ٹی آئی کے چیئرمین نے واضح کردیا کہ الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ساتھ صاف شفاف الیکشن کی مکمل یقینی دہانی تک معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے،واضح رہے کہ اعجاز الحق فوج کے سابق سربراہ اورسابق صدر مملکت جنرل ضیا ء الحق کے صاحبزاد ے اور سابق گورنر بلوچستان جنرل رحیم کے داماد ہیں اور ان کے اس فوجی پس منظر کو مقتدر حلقے بروئے کار لارہے ہیں ،اس کے علاوہ اعجاز الحق عمران خان کے قریب تر بھی سمجھے جاتے ہیں ۔نجی ٹی وی کے دعوے کے مطابق اعجاز الحق نے عمران خان کو مقتدر حلقوں کا یہ پیغام بھی پہنچایا ہے کہ وہ انہیں تحریری طو رپر اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ کب اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کا اعلان کیا جائے گا؟ تاہم عمران خان نے مقتدرحلقوں کی اس پیشکش کو ماننے سے انکار کردیااور یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ پہلے بھی کئی باران کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی لہذا اب وہ مزید کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے اس پیغام کے جواب میں اعجاز الحق سے کہا کہ وہ صرف اسی صورت میں بات مانیں گے کہ پہلے وزیراعظم ٹی وی پر آکر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کریں اگر ایساہوتا ہے تو پھر بات آگے بڑھ سکتی ہے ۔عمران خان نے موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے یہ موقف بھی اپنایا کہ جب تک مقتدرحلقوں اور اعلیٰ عدلیہ سمیت تمام متعلقہ فریقوں کی طرف سے صاف شفاف الیکشن کی مکمل ضمانت نہیں دی جاتی وہ کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق اگر وزیراعظم عمران خان کے مطالبے پر یہ اعلان کریتے ہیں کہ وہ اور اتحادی جلد انتخابات کےلئے تیار ہیںاورپی ٹی آئی آکر ان سے بات کرے تو اس صورت میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ اس بات کا اعلان لندن سے نوازشریف کریں چاہے وہ یہ اعلان ٹویٹ کے ذریعے یا باضابطہ بیان جاری کریں اعلان انہی کی طرف سے ہونا چاہیے۔نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے واضح کردیا ہے کہ وہ مزید کوئی دھوکہ کھانے کو تیار نہیں ہیں اورجب تک وزیراعظم کی طرف سے الیکشن کے حوالے سے دو ٹوک بیان سامنے نہیں آتا توحکومت کے ساتھ کوئی بات آگے نہیں بڑھے گی ۔نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے اگلے دس روز بہت اہمیت کی حامل ہیں بجٹ کی منظور ی کے بعد نئے انتخابات کا اعلان کسی وقت بھی متوقع ہے۔
الیکشن کا اعلان کب ہوگا؟ مقتدر حلقےعمران خان کو تحریری ضمانت دینے کوتیار ،چیئرمین پی ٹی آئی نے پیشکش ٹھکرادی








