اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہے کہ نیب قوانین کے جائزے کے چیف جسٹس کے ریمارکس کو خوش آمدیدکہتاہوں ،پی ٹی آئی نیب قوانین میں ترامیم کو چیلنج کرے، میرا دعویٰ ہے کہ تینوں ترامیم عدالت سے جائزقرارپائیں گی، مجھے نہیں معلوم خرم دستگیرنے تبدیلی کو کس بات سے جوڑا ہے،مونس الٰہی کے مقدمے میں ہم نے کوئی چیزاپنے پاس سے نہیں ڈالی،عمران خان کے فسادکو پوری طاقت سے روکیں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہاکہ عمران خان نے ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے،جھوٹے مقدمات کے لئے شہزاد اکبراور بابر اعوان کوکام پر لگایا گیا تھا، یہ ہمارے خلاف دونمبرججزلاناچاہارہے تھے، عمران خان کا طریقہ یہ ہے کہ ایک جھوٹ پکڑکر اس پر لگے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ نیب قوانین کے جائزے کے چیف جسٹس کے ریمارکس کو خوش آمدیدکہتاہوں ، نیب قوانین میں ترامیم کی ہیں سپریم کورٹ جائزہ لے ،اعلیٰ عدلیہ کے کئی فیصلوں میں ضمانت پر کہاگیا کہ یہ کالا قانون ہے،لوگوں کو نوے دن کے لئے پکڑکر اندر ڈال دیتے تھے،تفتیش نو دن بھی نہیں کرتے تھے،ہم نے نیب کی ایسی کون سی ترمیم کی جوغلط ہے، پی ٹی آئی نیب قوانین کو عدالت میں چیلنج کرے ،یہ چیلنج کریں میرا دعویٰ ہے کہ تینوں ترامیم عدالت سے جائزقرارپائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ عمران حکومت کا آرڈیننس 85فیصد اس قانون میں شامل ہے۔وزیرداخلہ نے کہاکہ ہم نے مونس الٰہی کو پہلے گرفتارکر کے بعد میں تفتیش نہیں کی،مونس الٰہی کے مقدمے میں ہم نے کوئی چیزاپنے پاس سے نہیں ڈالی۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کیا پی ٹی آئی25مئی کو مسلح جتھے کے ساتھ اسلام آباد پر حملے کے لئے نہیں آرہی تھی،عمران خان کی لانگ مارچ کی دھمکی اوردھونس ختم ہوچکی ہے،عمران خان کے فسادکو پوری طاقت سے روکیں گے۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملک کے ساتھ ظلم تھا،جو مہنگائی ہونی تھی جوچکی ،اب ہردن کل سے بہتر ہوگا۔ایک اور سوال کے جواب میں راناثنااللہ نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کہ خرم دستگیرنے تبدیلی کو کس بات سے جوڑا ہے؟۔
عمران خان کے فسادکو پوری طاقت سے روکیں گے، راناثنااللہ








