اسلام آباد(ممتاز رپورٹ)وفاقی کابینہ نے مقامی اور بین الاقوامی اجارہ سکوک پروگرام کے اجراء ،کورونا کے علاج میں استعمال ہونے والے انجکشن کی قیمت میں نمایاں کمی کی منظوری دیدی،وزیراعظم شہباز شریف نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف)میں ملنے والی حالیہ کامیابی کو مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ قرار دے دیا، جی ایس پی کی شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ وزراء، صوبائی حکومتوں اور وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی گئیں۔
کابینہ کے اجلا س میں پام آئل بحران پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انڈونیشیا ء کی طرف سے پاکستان کو پام آئل برآمدنہ کرنے کے فیصلے کے بعد یہ بحرانی کیفیت ناگزیر تھی،میں نے انڈونیشیاء کے صدر کو خط لکھااور وزیر صنعت و پیداوار مخدوم مرتضیٰ محمود سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں، مجھے خوشی ہے کہ وزیر صنعت و پیداواراپنے ذاتی خرچ پر انڈونیشیاء تشریف لے گئے اور ان کی انتھک کوششوں کے بعد یہ مسئلہ حل ہوا ، انڈونیشیاء نے پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر پام آئل کی برآمد شروع کردی ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف) کے معاملے پر وزیراعظم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اوروزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ حنا ربانی کھر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جن کی محنت اور لگن سے فیٹف کا مسئلہ حل ہوا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بطور اپوزیشن فیٹف سے متعلق قانون سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تمام متعلقہ وزارتیں خصوصاً وزارتِ خزانہ اور وزارتِ خارجہ نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا بلاشبہ یہ مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ 2019 ء میں چیف آف آرمی سٹاف نے جنرل ہیڈکوارٹر میں بھی ایک کور سیل قائم کیا، جس نے تمام وزارتوں اور محکمہ جات کی کاوشوں کو مربوط کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ کابینہ کو چاہیے کہ وہ تمام متعلقہ اداروں کو بھرپور خراج تحسین پیش کریں کیونکہ ان کی مشترکہ کاوشوں کے بغیر اس کامیابی کا حصول ممکن نہ تھا۔
کابینہ میں ملک میں یوریاکھاد کی طلب و رَسد کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ وزیرِ صنعت و پیداوار نے کابینہ کو تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کسانوں کو ارزاں نرخوں پر بروقت یوریا کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ تجارت کی سفارش پر ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013 کی سیکشن 21 کے تحت اپیلوں کی شنوائی کے لیے کمیٹی کی تنظیم نو کی منظوری دی۔ تنظیم نو کے بعد وزیر تجارت تین رکنی کمیٹی کے کنوئینر جبکہ وزیر صنعت و پیداوار اور وزیر ہوابازی و ریلوے اس کے ممبر ہوں گے۔ کابینہ نے خزانہ ڈویژن کی سفارش پر مقامی اور بین الاقوامی اجارہ سکوک پروگرام کے اجراء کی منظوری دی۔
کابینہ نے قومی وزارتِ صحت کی سفارش پر کورونا کے علاج میں استعمال ہونے والے 100mg Remdesivir Injections کی قیمت کو 2308.63/- روپے سے کم کرکے 1892/- روپے کرنے کی منظوری دے دی۔
کابینہ کو یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت، افادیت اور اہم خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین کے مابین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے بہت مفید ہے۔ کیونکہ یہ سہولت ملنے کے بعد ان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہوا۔ کابینہ کو اس سلسلے میں ادارہ جاتی انتظامات کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔
جی ایس پی پلس کے تحت یورپی کمیشن کی جانب سے 9 ترجیجی شعبوں میں 4 کلسٹرز اور 27 عالمی کنونشنز کی نشاندہی کی گئی۔ ان کلسٹرز میں انسانی حقوق، لیبر حقوق، موسمیاتی تبدیلی اور گورنس شامل ہیں۔ کابینہ کو ان پر ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی اور مجوزہ نئی EU GSPسکیم (2024-2034) کے نمایاں خدوخال سے آگا ہ کیا گیا۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ تمام متعلقہ وزراء یورپی یونین حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ مزیدبرآں یہ اَمر بھی قابلِ اطمینا ن ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے لہٰذا ہم اتفاقِ رائے سے پاکستان کے لیے GSP+ کی عائد شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بناسکتے ہیں۔ اس سے پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور یورپی منڈیوں تک پاکستانی اشیاء کی رسائی ممکن ہوسکے گی۔ گذشتہ حکومت نے پاکستان کے قومی مفاد کے عوص اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مغرب خاص طور پر یورپ کے ساتھ مخاصمت کو ہوا دی۔ یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ یورپی یونین نے موجودہ حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کیونکہ موجودہ حکومت معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدام کررہی ہے۔ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے چیف سیکرٹری صاحبان نے کابینہ کو GSP کی عائدشرائط پر عمل کرنے کے لیے ضروری قانون سازی پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانون سازی یا تو مکمل ہوچکی ہے یا مکمل ہونے کے قریب ہے۔ وزیراعظم نے جی ایس پی کی شرائط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ وزراء، صوبائی حکومتوں اور وزارتوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ کسی بھی قسم کی معاونت کے لیے ان کے دفتر سے رابطہ کرسکتے ہیں تاہم اس سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انشاء اللہ ہم متحد ہو کر ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔
وفاقی کابینہ نے اجارہ سکوک پروگرام کے اجراء ،کورونا کے انجکشن کی قیمت کم کرنے کی منظوری دیدی







