اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے وفد نے ملاقات کی جس میں پیکا ایکٹ، باقاعدگی سے شائع نہ ہونے والے اخبارات کا خاتمہ، پرنٹ میڈیا کو واجبات کی ادائیگی، صحافیوں کے تحفظ اور دیگر اہم امور زیر بحث آئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پیکا قانون مستند صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے حوالے سے صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے لیے تیار ہیں تاکہ موجودہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا کا اصل مقصد جعلی اور نام نہاد صحافیوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ باقاعدگی سے شائع نہ ہونے والے “ڈمی” اخبارات کے خاتمے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ پرنٹ میڈیا کو رواں سال واجبات کی مد میں ادائیگیاں کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن جلد کام شروع کر دے گا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ مشاورت اور بہتری پر یقین رکھتے ہیں اور پیکا رولز سے متعلق تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی صحافت جمہوری نظام کی روح ہے اور حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران قومی مفاد میں میڈیا کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے قومی سلامتی اور ریاستی موقف کے تحفظ میں بالغ نظری کا مظاہرہ کیا اور افواہوں کے تدارک میں مؤثر کردار ادا کیا۔
سی پی این ای کے وفد نے وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر کی جانب سے بروقت اور مصدقہ معلومات کی فراہمی کو سراہا اور صحافت کے پیشہ ورانہ ماحول کی بہتری سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ وزیر اطلاعات نے ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل کا اعلان بھی کیا تاکہ میڈیا کو درپیش چیلنجز کا ادارہ جاتی حل نکالا جا سکے۔ ملاقات میں وزیراعظم کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز وڑائچ اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن بھی شریک تھے۔









