سٹراسبرگ: اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر بڑھتے ہوئے حملے ہر ایک کے لیے خطرہ ہیں۔
فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپین پارلیمنٹ سے خطاب میں شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جنگ کسی انتہا پر جا کر ختم ہو گی، ایران پر حملوں سے ہمارے خطے اور اس سے باہر خطرناک حد تک کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ا گر ہماری عالمی برادری فیصلہ کن طور پر کام کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ہم انسان کی تعریف ازسر نو لکھ رہے ہوں گے۔ اگر اسرائیلی بُلڈوزر غیرقانونی طور پر فلسطینیوں کے گھروں، زیتون کے درختوں اور تنصیبات کو مسمار کرتے رہے، تو ایک دن وہ اخلاقی بنیادوں کو بھی چپٹا کر دیں گے۔
اردن کے فرمانروا نے نے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت اور فلسطینیوں کو آزادی اور ریاست کا حق دینے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سلامتی کو اس وقت تک یقینی نہیں بنایا جا سکتا جب تک عالمی برادری یوکرین میں تین سالہ جنگ اور آٹھ دہائیوں سے جاری دنیا کے سب سے طویل اور تباہ کن فلسطینی اسرائیلی تنازع کو ختم کرنے کے لیے کام نہیں کرتی۔
شاہ عبداللہ دوم نے غزہ میں بین الاقوامی قانون اور (عالمی برادری کی) مداخلت کی ناکامی کا حوالہ دیا اور کہا کہ 20 ماہ قبل جو ظلم سمجھا جاتا تھا وہ اب معمول بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی ناکامی کے بعد بچوں کے خلاف قحط کا بطور ہتھیار استعمال، طبی عملے، صحافیوں اور بچوں کو نشانہ بنانا سب معمول بن گیا ہے۔‘
اردن کے فرمانروا نے کہا کہ یہ تنازع ختم ہونا چاہیے اور اس کا حل بین الاقوامی قانون میں ہے۔ امن کے راستے پر پہلے بھی چل چکے ہیں اور اگر ہم اس کو منتخب کرنے کی ہمت اور ساتھ چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس پر دوبارہ چلا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے ایران پر بڑھتے ہوئے حملے ہر ایک کے لئے خطرہ ہیں،فرمانروااردن








