یروشلم(نیوز ڈیسک) امریکی فضائی حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی مکمل مشاورت اور رابطے کے ساتھ کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل کے وجود اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ تھا۔
تفصیلات کے مطابق اپنے بیان میں نیتن یاہو نے بتایا کہ آپریشن کی تکمیل کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں فون کرکے کارروائی سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ اب پورا ہو چکا ہے۔
نیتن یاہو نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں دہشتگردی کو ہوا دے رہا ہے، اور امریکی کارروائی نے نہ صرف اسرائیل بلکہ دنیا بھر کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے کہ خطرناک عزائم اب برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایران کے خلاف مزید موثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کی رات 2:30 بجے امریکا نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا۔
اس کے علاوہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔









