اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے حجم میں اضافے اور اس میں ایک سال کی توسیع کی امید ظاہر کی ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے’’رائٹرز‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی مدت میں ایک سال توسیع کی بات کی لیکن آئی ایم ایف نے ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض کی رقم بڑھنے کی بھی توقع ہے جب کہ کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بنیادی طورپربجٹ اور مالیاتی اقدامات پراتفاق ہوا ہے۔
اس سے پہلے اپریل میں انہوں نے دعویٰ کیا تھاکہ آئی ایم ایف نے امدادی پیکج کے مجموعی حجم دو ارب ڈالراضافے اور اسے جون 2023تک توسیع دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اس حوالےسے ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا
دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندہ ایستھرپیریز روئز کا کہنا ہے کہ بیل آؤٹ پروگرام کی بحالی کیلئے آئی ایم اور پاکستان کے درمیان اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
نمائندہ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ میکرواکنامک کو مضبوط بنانے پر بات چیت جاری ہے، توقع ہے میکرواکنامک اور مالیاتی اہداف پر ابتدائی یادداشت پر چند دنوں میں معاہدہ ہوجائے گا۔
ادھر نجی ٹی وی کے مطابق اگلے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 5 ارب روپے سے بڑھا کر7 ہزار 450 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے جب کہ کسٹم وصولی کا ہدف 950 ارب روپے سے بڑھا کر ایک ہزار 5 ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ہرماہ 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے، جی ایس ٹی کی مد میں وصولیوں کا ہدف 3 ہزار8 ارب روپے سے بڑھا کر 3 ہزار 3 سو ارب روپے کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
انکم ٹیکس کی مد میں وصولیوں کا ہدف 55 ارب روپے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر یکم جولائی سے سیلز ٹیکس 11 فیصد کی شرح سے وصول کیا جائے۔
آئی ایم ایف نے پیٹرولیم مصنوعات پر50 روپے فی لیٹرلیوی عائد کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے جس کےبعد پیٹرولیم مصنوعات پر ہرماہ 5 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
بیل آؤٹ پیکج بڑھانے و ایک سال کی توسیع پرآئی ایم ایف نے تاحال کوئی واضح جواب نہیں دیا،مفتاح








