بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 سندھ طاس معاہدہ:پاکستان نے بھارت کو قانونی جنگ میں بھی ہرادیا

مستقل عدالت برائے انصاف کے تحت قائم ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتےہوئے بھارت کی طرف سے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کوغیر قانونی قراردے دیا۔
ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور قانونی حیثیت رکھتا ہے، جسے یکطرفہ طور پر کوئی بھی فریق معطل نہیں کر سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی ایک فریق کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کا اعلان ثالثی عدالت کی کارروائی کو متاثر نہیں کرتا۔ معاہدے میں کسی بھی تنازعے کی صورت میں ثالثی کا عمل بنیادی شرط ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کے کردار کو محدود کرنے اور کارروائی رکوانے کی کوشش معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں، اور اس کا اطلاق صرف دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ہی ختم یا معطل ہو سکتا ہے۔
پاکستان ن ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید ہے اور بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے باہمی احترام اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے 2016 میں بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر غیر قانونی آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
بھارت نے بعدازاں معاہدے کی مبینہ معطلی کا اعلان کرتے ہوئے عدالت کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی، جو اب مسترد کر دی گئی ہے۔
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ثالثی عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی جیت ہے بلکہ عالمی سطح پر انصاف، معاہدوں کی پاسداری اور پانی جیسے حساس مسائل پر قانونی راستوں کے مؤثر ہونے کا ثبوت بھی ہے۔