نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے سلسلے میں تین نئی گرفتاریاں کی ہیں جبکہ اس سے قبل بھی آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اب اس کیس میں ہونے والی گرفتاریوں کی مجموعی تعداد 11 ہو چکی ہے۔برطانوی نشریاتی کی ادارے (بی بی سی )کی رپورٹ کے مطابق 29 مئی کو پنجابی گلوکار اور ریپر موسے والا کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا اور انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ’دو اہم شوٹرز‘ ہیں اور ایک اور مشتبہ ملزم مغربی ریاست گجرات سے ہے تو ایسا لگا کہ پولیس نے ان کے قتل کی گتھی سلجھانے میں بڑی پیشرفت کی ہے۔
قتل کی تحقیقات کرنے والی دلی پولیس کے خصوصی سیل کے کمشنر ایچ ایس دھالیوال نے الزام لگایا کہ تینوں افراد نے موسے والا کو قتل کرنے سے پہلے متعدد بار بار علاقے کی ریکی کی تھی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ریپر کو 24 گولیاں لگیں اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔
سینیئر پولیس اہلکار دھالیوال نے کہا کہ ’ملزمان سے آٹھ دستی بم، نو الیکٹرک ڈیٹونیٹر، تین پستول اور ایک اسالٹ رائفل برآمد ہوئی ہیں۔‘
دھالیوال نے مزید کہا کہ دستی بم ’ہتھیاروں کے کام نہ کرنے کی صورت میں بیک اپ‘ کے طور پر موجود تھے۔
تحقیقات کے دوران اب تک ایک درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں دلی اور پنجاب ریاست کی پولیس مشترکہ طور پر تفتیش کر رہی ہے۔واضح رہے کہ موسے والا پنجاب کے رہنے والے تھے اور ان کا قتل بھی وہیں ہوا تھا۔
مسٹر دھالیوال کا کہنا ہے کہ اس کیس نے پنجاب میں جرائم پیشہ گینگز سے متعلق ایک پیچیدہ جال کا انکشاف کیا۔
اس کا جواب مشکل ہے لیکن پولیس کو شبہ ہے کہ یہ گینگز کی آپسی دشمنی کا معاملہ ہے، حالانکہ موسے والا کے اہلخانہ نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔
پولیس نے ابھی تک تحقیقات کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک فائرنگ کے محرکات کو تلاش کر رہے ہیں۔
پنجاب پولیس نے ’لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے، ریسکیو کرنے اور شوٹروں کو پناہ دینے‘ کے الزام میں آٹھ دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا۔
پولیس نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ملزمان میں سے ایک نے موسے والا کا مداح ہونے کا بہانہ کر کے گلوکار کی حرکات پر نظر رکھ رہا تھا۔
ایک چھوٹا سا سراغ
کیس کی ہائی پروفائل نوعیت کے پیش نظر موسے والا کی موت کی تفتیش آسان نہیں رہی۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ گلوکار اپنے مداحوں میں بے حد مقبول تھے اور لوگ دل کی گہرائیوں سے ان کا احترام کرتے تھے اور دوسرا یہ کہ وہ ان کے قتل پر ناراض تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس نے کئی ریاستوں اور شہروں میں پھیلے ایک وسیع اور ’مذموم مجرمانہ گٹھ جوڑ‘ کا بھی سراغ دیا ہے۔
پنجاب میں حکام نے ایک خصوصی تفتیشی یونٹ تشکیل دیا اور یہ لوگ کئی دن سے سراغ اور قتل کی جوابات کی تلاش میں تفصیلات جمع کر رہے ہیں لیکن بڑی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے قتل سے چند دن پہلے 25 مئی کو ایندھن کی رسید برآمد کی۔
یہ رسید مبینہ طور پر جرم میں استعمال ہونے والی کار سے ملی تھی، جسے موسے والا کو گولی مارنے کے مقام سے 13 کلومیٹر (آٹھ میل) دور چھوڑ دیا گیا تھا۔
پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر رسید جاری کرنے والے پیٹرول پمپ پر گئی۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی گئی اور فائرنگ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوئی۔پولیس کے مطابق فوٹیج سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ملزم نے موسے والا تک پہنچنے کے لیے کون کون سا راستہ اختیار کیا۔
وہ چھوٹا سا سراغ جس نے پولیس کو سدھو موسے والا کیس میں مبینہ شوٹرز تک پہنچایا








