بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومتی نااہلی نے چینی میں کڑواہٹ گھول دی، برآمد کے بعد اب درآمد کا فیصلہ، قیمتوں کی ڈبل سنچری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان میں مہنگائی نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اور اب چینی جیسی روزمرہ کی ضروری شے بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ ادارہ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کے کئی بڑے شہروں میں چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس نے شہریوں کے ہوش اُڑا دیے ہیں۔

وفاقی حکومت نے اب نجی شعبے کو چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے، لیکن یہ فیصلہ عوامی ریلیف کے بجائے نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

چینی کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئیں؟
ادارہ شماریات کے مطابق چینی کی قیمتیں چھٹے ہفتے بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور صرف گزشتہ ہفتے ہی اس میں 3.52 روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔

کچھ اہم شہروں میں چینی کی قیمتیں:
کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی: 200 روپے فی کلو

لاہور، سیالکوٹ: 192 روپے

لاڑکانہ: 195 روپے

ملتان، گوجرانوالہ، پشاور، حیدرآباد: 190 روپے

کوئٹہ، خضدار: 188 روپے

فیصل آباد، سرگودھا، بنوں، بہاولپور: 185 روپے

چینی کے ساتھ دیگر اشیائے ضروریہ بھی مہنگی
صرف چینی ہی نہیں، ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 19 اہم اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جن میں شامل ہیں:

برائلر مرغی: 78 روپے 32 پیسے مہنگی

ٹماٹر: 10 روپے 56 پیسے اضافہ

لہسن: 8 روپے 44 پیسے مہنگا

دودھ، دہی، پیاز، آلو: سب کی قیمتیں بڑھ گئیں

حکومت کی درآمدی پالیسی: ریلیف یا بحران؟
وفاقی حکومت نے اب پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے، اور پہلا سرکاری ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے چینی کی قیمتوں پر قابو پایا جائے گا۔

لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟
ماہرین معاشیات اور عوامی حلقے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:

حکومت نے وقت پر برآمد نہ روکی

مقامی ذخائر محفوظ نہیں رکھے گئے

اب درآمد کے فیصلے سے منافع خوروں کو فائدہ دیا جا رہا ہے

 حکومت کہاں ناکام ہوئی؟
ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر حکومت وقت پر چینی کی برآمد روکتی تو آج بحران نہ ہوتا

ذخیرہ اندوزی اور کالا دھن بنانے والوں پر بروقت کارروائی نہ کی گئی

عوام کو ریلیف دینے کے بجائے نجی شعبے کو مراعات دی جا رہی ہیں

یہی وجہ ہے کہ چینی کی درآمد کو عوامی ریلیف کے بجائے ”چاندی کا موقع“ قرار دیا جا رہا ہے۔

کیا حل ہے؟ عوام کو کیسے بچایا جائے؟
حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اقدامات لینے کی ضرورت ہے:

چینی کی قیمتوں پر ریئل ٹائم مانیٹرنگ

ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی

مقامی کسانوں اور شوگر ملز کے ساتھ شفاف پالیسی

سبسڈی یا ریلیف پیکیج برائے عام صارفین

شفاف درآمدی عمل اور نرخوں پر عوامی رپورٹنگ کا نظام

ریلیف صرف وعدوں سے نہیں، عمل سے آئے گا
چینی کی قیمت کا 200 روپے فی کلو تک پہنچ جانا ایک الارم ہے کہ معاشی پالیسیوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو عوام کی پریشانی مزید بڑھے گی اور مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہو جائے گا۔