بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مصنوعی ذہانت انسانی معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک، نئی تحقیق نے تہلکہ مچا دیا

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کی حیرت انگیز ترقی نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ چینی سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جدید اے آئی ٹولز اب انسانوں جیسی سوچ رکھنے لگے ہیں، جو سائنسی دنیا میں ایک غیرمعمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور ساؤتھ چائنا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی، جس میں بڑے زبان کے ماڈلز (Large Language Models – LLMs) کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ماڈلز معلومات کو ترتیب دینے، اشیاء کو سمجھنے، اور مسائل کا حل تلاش کرنے میں انسانوں جیسے طریقے اختیار کر رہے ہیں — حالانکہ انہیں اس انداز میں تربیت نہیں دی گئی۔

چینی محققین نے دریافت کیا کہ AI ماڈلز جیسے کہ “اوپن اے آئی” اور “گوگل” کے تیار کردہ سسٹمز خود بخود ایک اندرونی ترتیب یا سسٹم تشکیل دے لیتے ہیں جو قدرتی اشیاء اور تصورات کی درجہ بندی میں مدد کرتا ہے۔ اس صلاحیت نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ یہ انسانی فہم سے بہت قریب ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ “ملٹی موڈل لارج لینگویج ماڈلز” (Multimodal LLMs – MLLMs) صرف متن ہی نہیں بلکہ بصری اور آڈیو ڈیٹا کو بھی یکجا کر کے معلومات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ماڈلز بالکل انسانوں کی طرح مختلف حسی ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کو یکجا کر کے نتائج اخذ کرتے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی اور فہم میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق MLLMs مختلف ذرائع سے ملنے والے ڈیٹا کی مدد سے اشیاء کی بہتر شناخت اور تفہیم حاصل کر سکتے ہیں، جو انہیں عام LLMs سے کہیں زیادہ طاقتور اور باصلاحیت بناتا ہے۔

تاہم، جہاں اے آئی کی ترقی سے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلاب آ رہا ہے، وہیں اس کے منفی اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ اس میں پوشیدہ خطرات مستقبل میں معاشرتی و اخلاقی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔