جب بچے اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، تب جانوی پنور بی بی سی کے انگلش نیوز سنے بغیر نئے لہجے سیکھ رہی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی جس نے اپنی محنت اور لگن سے وہ مقام حاصل کیا، جس تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
کامیابی کا آغاز
ویب سائٹ بادبان کی رپورٹ کے مطابق جانوی پنور کی زندگی کا آغاز ہریانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں شاہرمالپور سے ہوا، جہاں 8 نومبر 2003 کو ایک بچی کی پیدائش ہوئی۔ اس کی پیدائش کے وقت والدین کے دل میں شاید بیٹے کی امید تھی، مگر اللہ کی مرضی کچھ اور تھی۔ اس بچی نے بعد میں نہ صرف اپنے والدین کا فخر بننا تھا، بلکہ پورے ملک کا فخر بننا تھا۔
پہلا اشارہ
جب جانوی صرف ایک سال کی تھی، اس کے والد برج موہن پنور نے محسوس کیا کہ یہ بچی دوسرے بچوں سے مختلف ہے۔ دوسرے بچے ’ماں، بابا‘ کی آواز سے بات شروع کرتے ہیں، لیکن جانوی پہلے ہی 500 سے زائد انگریزی الفاظ بولنے لگی تھی۔ اس کی دلچسپی کھلونوں سے کم اور تصویری کتابوں، جانوروں کے نام، پرندوں کی اقسام میں زیادہ تھی۔
نیا راستہ
جب جانوی تین سال کی ہوئی، تو اس کے والد نے اسکول میں داخلے کے لیے درخواست دی، لیکن جانوی نے پہلے ہی گھر پر سینئر کے جی کا تمام نصاب سیکھ لیا تھا۔ اسکول کی انتظامیہ نے جب اس کا ٹیسٹ لیا تو سب ہیران رہ گئے اور اسے سیدھا سینئر کلاس میں داخلہ دے دیا۔
ریڈ فورٹ پر سنگ میل
ایک دن جانوی اپنے والدین کے ساتھ دہلی کے لال قلعے پر گئی۔ وہاں، جب جانوی نے غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ان کے لہجے میں بات کی، تو اس کے والد برج موہن بہت حیران ہوئے۔ ان کی چھوٹی سی بیٹی بغیر کسی تربیت کے برطانوی لہجے میں بات کر رہی تھی۔ اس کے بعد برج موہن نے فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی کو وہ تربیت دینی ہے جو دنیا کی کسی بچی کو نہ ملی ہو۔
بی بی سی کی دنیا
برج موہن نے انٹرنیٹ سے BBC نیوز کے کلپس ڈاؤن لوڈ کیے اور جانوی انہیں سن کر چند دنوں میں ان ہی لہجوں میں بولنے لگی۔ وہ برٹش، امریکن، پاش، کاکنی، نارفک، اسکاٹش، کینیڈین، آسٹریلین اور رِسیوڈ پرنانسی ایشن میں مہارت حاصل کر گئی۔
یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں تھا۔ اس کے والد نے ایک زبان کی ماہر ریکھا راج سے جانوی کی کلاسز شروع کرائیں۔ جانوی روز اسکول سے واپس آ کر کھانا کھاتی اور پھر اپنے والد کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کر کلاسز لینے جاتی۔ اس طویل مشق نے جانوی کو لہجوں کی ماہر بنا دیا۔
موٹیویشنل اسپیکر کی حیثیت سے پہچان
جب جانوی صرف 12 سال کی تھی، اسے بمبئی کے ایک ایڈمنسٹریٹو انسٹیٹیوٹ میں لیکچر دینے کا موقع ملا۔ وہاں 150 سے زائد IAS افسران اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر موجود تھے۔ جانوی نے انگریزی میں اتنے پراثر انداز میں خطاب کیا کہ پورا ہال کھڑا ہو گیا۔ اسی وقت اس کی پہچان “Wonder Girl of India” کے طور پر ہوئی۔
ایک بچی کی عالمی سوچ
جانوی جب 8ویں جماعت میں تھی، تب وہ دہلی یونیورسٹی میں BA کے دوسرے سال کی طالبہ تھی۔ وہ فرانسیسی، جاپانی اور ہسپانوی زبانیں سیکھ رہی تھی اور BBC میں اینکر بننے کی تیاری کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی UPSC کے امتحانات کی تیاری بھی کر رہی تھی۔
والد کا فخر
جانوی کے والد برج موہن نے کہا: “میری بیٹی بیٹا نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ دیہات میں بیٹیوں کو پیچھے رکھا جاتا ہے، لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ جو کچھ بھی کر سکتا ہوں، اپنی بیٹی کے لیے کروں گا۔ ہم انگریزی نہیں بولتے، مگر جانوی آج دنیا بھر میں خطاب کرتی ہے۔”
ایک غیر معمولی پیغام
جانوی پنور کی کہانی صرف ایک بچی کی کامیابی نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ہے کہ:
دیہات سے بھی کوئی عالمی سطح پر سوچ سکتا ہے۔
بیٹی ہونا رکاوٹ نہیں، بلکہ رحمت ہے۔
اگر والدین اپنے بچوں پر اعتماد کریں، تو وہ آسمان سے بھی بلند اُڑان بھر سکتے ہیں۔
جانوی کی کہانی نہ صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ اگر موقع دیا جائے، تو انسان کی کامیابی کی کوئی حد نہیں۔









