واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا کے صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روس نے اگلے 50 دنوں میں یوکرین کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق نہ کیا تو امریکا روسی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف (محصولات) عائد کر دے گا۔
پیوٹن کے رویے پر برہمی کا اظہار
واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا:
“اگر اگلے 50 دن میں کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم 100 فیصد ٹیرف لگائیں گے، یہ ایک سیدھا، سادہ سا حل ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ روس کا یوکرین پر حملہ قابل مذمت ہے اور شہری علاقوں پر بمباری جیسے اقدامات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“میں صدر پیوٹن کے رویے سے سخت مایوس ہوں۔ وہ ایک خوبصورت لہجے میں بات کرتے ہیں لیکن پھر رات کو معصوم شہریوں پر بم گراتے ہیں مجھے یہ بالکل قبول نہیں۔”
نیٹو کا تعاون اور جدید اسلحہ کی فراہمی
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نیٹو ممالک کے ذریعے یوکرین کو جدید ہتھیار فراہم کرے گا۔ ان میں پیٹریاٹ میزائل سسٹمز بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سسٹمز کچھ ہی دنوں میں فرنٹ لائن ممالک کو فراہم کر دیے جائیں گے۔
نیٹو سربراہ کی حمایت
اس موقع پر نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ روٹے نے ٹرمپ کی دھمکی کی تائید کرتے ہوئے کہا:
“اگر میں پیوٹن ہوتا اور یہ دھمکی سن رہا ہوتا، تو ضرور امن مذاکرات کی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھاتا۔”
امن کی کوششیں ناکام، روس کا دوغلا رویہ
ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ مہینوں میں کئی بار امن معاہدے کی کوششیں کیں، لیکن ہر بار روس کی طرف سے رات کے اندھیرے میں حملے کر دیے گئے، جس سے مذاکرات کا عمل سبوتاژ ہو گیا۔
“ہم نے شاید چار بار کوشش کی کہ کسی معاہدے پر پہنچ جائیں، لیکن ہر بار رات کو حملے شروع ہو جاتے اور بات چیت رک جاتی۔”
مزید پابندیوں کا عندیہ
ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ اگر روس نے جلد جنگ ختم نہ کی تو مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
“ہم پیوٹن سے بالکل خوش نہیں ہیں۔ وہ بے گناہ لوگوں کی جانیں لے رہا ہے، اور یہ جنگ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہے۔”
100 فیصد ٹیرف: روسی معیشت پر بھاری وار؟
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر امریکا واقعی 100 فیصد ٹیرف نافذ کرتا ہے، تو یہ روس کی معیشت کے لیے شدید دھچکا ہوگا۔ توانائی، دھاتوں، اور اسلحہ کی تجارت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، اور روس کے لیے عالمی مارکیٹ تک رسائی مزید محدود ہو جائے گی۔
یہ دھمکی نہ صرف روس پر معاشی دباؤ بڑھا سکتی ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی نئی کشیدگی کا آغاز کر سکتی ہے۔









