امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ستمبر میں پاکستان کے ممکنہ دورے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تقریباً 2 دہائیوں بعد کسی امریکی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل صدر جارج ڈبلیو بش نے 2006 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
مقامی میڈیا نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچیں گے اور بعد ازاں بھارت کا بھی دورہ کریں گے۔
دفتر خارجہ کا محتاط ردعمل
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال ہمیں صدر ٹرمپ کے متوقع دورے سے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی‘۔
پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورہ کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی جو کہ ایک غیرمعمولی اور بے مثال ملاقات قرار دی گئی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا تھا کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی عکاس ہے۔
سیاسی اور سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ پاکستان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم سیاسی اور سفارتی حلقے اسے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان حالیہ برسوں میں اعتماد کا فقدان اور علاقائی امور پر اختلافات پائے گئے۔
مزید تفصیلات کا انتظار
اگر ٹرمپ کا دورہ حتمی ہوا، تو یہ نہ صرف پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت پیدا کر سکتا ہے، بلکہ علاقائی سطح پر پاکستان، بھارت اور امریکا کے تعلقات کے تناظر میں بھی اہم سفارتی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔









