بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت غیرمقبول اقدامات اٹھانے پر مجبور، تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا گیا ریلیف ختم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اتحادی حکومت نے جمعہ کو نئے ٹیکس اقدامات کا اعلان کیا ہے جس میں 13 بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس بھی شامل ہے تاکہ اضافی 465 ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا جا سکے تاکہ تعطل کا شکار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کو بحال کرنے کے لیے بجٹ خسارے کو کم کیا جا سکے۔

نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جن کی سالانہ آمدنی 15کروڑ روپے سے زیادہ ہے ان پر ایک فیصد، 20کروڑ سے زائد آمدن پر 2فیصد، 25کروڑ سے زائد آمدن پر 3فیصد اور 30کروڑ سے زائد آمدن پر 4 فیصد ٹیکس لگے گا۔

 

یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب یہ امید ہے کہ ملک جلد ہی آئی ایم ایف فنڈز کی نئی قسط کے لیے عالمی مالیاتی ادارے ایک معاہدہ کر لے گا تاکہ ادائیگیوں میں توازن لا کر بحران سے بچا جا سکے۔

جمعہ کی صبح قوم سے خطاب میں سپر ٹیکس کے اعلان کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہلچل مچا دی کیونکہ اس کے بینچ مارک کے ایس ای 100انڈیکس میں ٹریڈنگ روکنے سے پہلے 2ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی، دوپہر تک یہ 4.81 فیصد کم ہوکر 40ہزار663.62 پر تھی۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بعد ازاں ٹوئٹر پر واضح کیا کہ ’سپر ٹیکس‘ ایک بار لگنے والا ٹیکس ہے جو پچھلے چار ریکارڈ بجٹ خساروں کو کم کرنے کے لیے درکار تھا، تمام شعبوں پر 4فیصد سپر ٹیکس لاگو ہو گا لیکن 13 مخصوس شعبوں پر مزید 6فیصد لگ کر یہ مجموعی طور پر 10فیصد ہو جائے گا اور 29فیصد سے 9فیصد پر پہنچ جائے گا۔

حکومت پیٹرول اور ڈیزل سمیت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی لاگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اس کے علاوہ مائع پیٹرولیم گیس پر 30ہزار روپے فی ٹن لیوی بھی عائد کی جائے گی۔

ساتھ ہی حکومت کی جانب سے اگلے سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے 47 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی واپس لے لیا گیا ہے اور ٹیکس چھوٹ کی حد کو 12لاکھ روپے سے تبدیل کر کے 6لاکھ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ 100 روپے کے فکسڈ ٹیکس کو 6لاکھ سے 12 لاکھ روپے کے درمیان کمانے والے افراد کے لیے 2.5 فیصد ٹیکس سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

موجودہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں سیاسی ردعمل کے خوف سے غیر مقبول ٹیکس اقدامات سے گریز کیا تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کے مطالبے کے بعد حکومت کو کئی امدادی اقدامات واپس لینے پڑے۔

جمعہ کو اعلان کردہ محصولاتی اقدامات 10 جون کو اعلان کردہ 440 ارب روپے کے ٹیکس کے علاوہ ہیں یعنی 23-2022 کے بجٹ میں اعلان کردہ خالص محصولاتی اقدامات اب 905 ارب روپے ہیں۔

یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ 400 ارب روپے سے زیادہ کی آمدنی کا بڑا حصہ مالی سال 23-2022 میں متوقع 12.8 فیصد مہنگائی سے حاصل ہو گا جبکہ بقیہ اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالے گا۔

حکومت نے آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس وصولی کا ہدف بھی 70کھرب روپے سے بڑھا کر 74ارب 70ارب روپے کر دیا ہے تاہم نان ٹیکس ریونیو کے ہدف پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 20کھرب سے کم کر کے 19کھرب 40ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

تنخواہ دار طبقہ

مجوزہ اوپر والے سلیب کے مطابق 6لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے 2.5 فیصد ٹیکس ادا کریں گے جب کہ 12لاکھ سے 24لاکھ روپے کمانے والے پچھلے سال کے مقابلے میں 7.5 فیصد کے بجائے 12.5 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔

سالانہ 24لاکھ سے 36 لاکھ روپے کمانے والے افراد سے ایک لاکھ 65ہزار روپے کے علاوہ 24لاکھ روپے سے زائد رقم کا 20 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

سالانہ 36 لاکھ سے 60لاکھ روپے کمانے والوں سے 4لاکھ 5ہزار روپے کے علاوہ 36 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 25 فیصد وصول کیا جائے گا۔

60 لاکھ سے ایک کروڑ 20لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد سے 10لاکھ 5ہزار روپے کے علاوہ 60 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 32.5 فیصد وصول کیا جائے گا۔

آخری سلیب میں سالانہ ایک کروڑ 20لاکھ روپے سے زیادہ کمانے والے افراد سے 29لاکھ 55ہزار روپے اور ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد رقم کا 35 فیصد وصول کیا جائے گا۔