سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کر دیا، جس کے بعد بھارت پر مجموعی امریکی ٹیرف کی شرح 50 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی اضافی اقتصادی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں جس پر بھارتی میڈیا اور معیشت میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی قیمت چکانی ہوگی، ٹرمپ
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو روس سے خام تیل کی درآمد کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اب بھی روس سے تیل خرید رہا ہے، جو یوکرین میں جاری جنگ کو بالواسطہ طور پر توانائی فراہم کر رہا ہے۔
امریکی ٹیرف کی نئی تفصیلات
بھارت سے درآمد کی جانے والی تمام اشیاء پر اضافی ایڈ ویلیورم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ درآمدی محصولات لینے والا ملک ہے، اس لیے اس پر سخت اقدامات ضروری ہیں۔ امریکا نے بھارت کے مقابلے میں دیگر ممالک پر نسبتاً کم ٹیرف لاگو کیے ہیں، ویتنام پر 20فیصد، انڈونیشیا 19 ، جاپان اور یورپی یونین15فیصدٹیرف عائد کیاگیا
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نےپاکستان کو کچھ ریلیف بھی دیا ہے۔ پہلے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف لاگو تھا، جسے اب کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا ہے۔یہ نئی شرح 7 اگست سے مؤثر ہو جائے گی۔
بھارت کی تیل پالیسی پر عالمی تنقید
واضح رہے کہ بھارت اس وقت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے، اور روس سے خام تیل خریدنے والا سب سے بڑا خریدار بھی۔ یوکرین جنگ کے دوران روس کے لیے یہ اہم مالی ذریعہ بن چکا ہے، جس پر امریکا اور مغربی دنیا کی جانب سے شدید نکتہ چینی جاری ہے۔
بھارت پر نئی پابندیوں کی بازگشت
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرف اور پابندیوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ بھارتی میڈیا میں اس فیصلے کو بڑا اقتصادی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی معیشت اور اس کے عالمی تجارتی تعلقات پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
ٹرمپ کا بھارت پر نیا تجارتی وار، 25 فیصد اضافی ٹیرف اور سخت پابندیاں عائد








