امریکا کی جانب سے بھارت پر اضافی تجارتی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے بعد نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنے “دوست” ولادیمیر پیوٹن سے مفصل اور مثبت گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ بات چیت میں دو طرفہ ایجنڈے اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ رواں سال بھارت-روس سالانہ سربراہی کانفرنس کے 23ویں اجلاس کے لیے صدر پیوٹن کی میزبانی کے منتظر ہیں۔ یوکرین کی حالیہ صورتحال سے آگاہی پر مودی نے روسی صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے بعد مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس تجارتی دباؤ کے تناظر میں بھارت کی روس کے ساتھ قربت میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔









