بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شدت پسندوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق،تین حملہ آور مارے گئے

تہران(نیوز ڈیسک) ایران کے شورش زدہ صوبے سیستان–بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا، جبکہ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے اور دو کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عسکریت پسندوں نے پولیس اسٹیشن میں گھسنے کی کوشش کی۔ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں سرون شہر کا ایک پولیس اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ حملہ آوروں کا تعلق شدت پسند گروہ “جیش العدل” سے بتایا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں سرگرم ہے۔

سیستان–بلوچستان ایران، پاکستان اور افغانستان کے سنگم پر واقع ہے اور یہاں اکثر سیکیورٹی فورسز، باغیوں اور اسمگلروں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں عسکریت پسند زیادہ حقوق اور خودمختاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ رواں سال 26 جولائی کو صوبائی دارالحکومت زاہدان میں عدالت پر مسلح حملہ ہوا تھا، جس میں کم از کم چھ افراد مارے گئے تھے، اور اس کی ذمہ داری بھی جیش العدل نے قبول کی تھی۔ اکتوبر میں ایک بڑے حملے میں دس پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ستمبر 2024 میں مختلف واقعات میں تین پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ اپریل میں بھی اسی صوبے میں پانچ اہلکار فائرنگ کا نشانہ بنے تھے۔

یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیستان–بلوچستان بدستور ایران کا سب سے حساس اور غیر محفوظ صوبہ بنا ہوا ہے۔