جمہوریت میں ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن اگر ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری ہو تو جمہوریت کا پورا نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔ بھارتی ریاست بہار اور پٹنہ میں ووٹر لسٹوں میں گھپلوں کا ایک ایسا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے جس سے بھارت کی “سب سے بڑی جمہوریت” کے دعووں کی حقیقت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بہار میں ایک ہی گھر سے 269 اور دوسرے گھر سے 247 ووٹرز کی جعلی رجسٹریشن سامنے آئی ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ان ووٹرز میں مختلف مذاہب اور ذات کے افراد شامل ہیں، جو اس گھپلے کی نوعیت کو مزید مشکوک بناتا ہے۔
مزید عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی مکان میں رہنے والی ایک خاتون کا نام تین مختلف مقامات پر درج کیا گیا اور ان کے شوہر اور والد کے نام بھی مختلف طریقوں سے لکھے گئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ووٹر لسٹوں میں بڑی بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔
کانگریس نے ان انکشافات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی جماعت بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ ووٹ چوری میں ملوث ہیں اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، اپوزیشن نے ان بے ضابطگیوں کے خلاف “ووٹ چوری مارچ” نکالا جس کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی ، پریانکا گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
غضب کا گھپلا، ایک ایک گھر میں سینکڑوں ووٹرز کی جعلی رجسٹریشن








