بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یوٹیوب کا نیا قدم، کم عمر صارفین کے لیے پابندیاں تیار

یوٹیوب نے کم عمر صارفین کو نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نیا اور جدید نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ نظام مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے صارفین کی عمر کا اندازہ لگائے گا — بغیر اس کے کہ صرف تاریخِ پیدائش پر انحصار کیا جائے۔
ابتدائی طور پر یہ فیچر صرف امریکا میں آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا جا رہا ہے، لیکن کامیابی کی صورت میں اسے دیگر ممالک تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔
یوٹیوب کے ڈائریکٹر برائے پروڈکٹ مینجمنٹ، جیمز بیسر نے اس حوالے سے کہا کہ یوٹیوب ان اولین پلیٹ فارمز میں سے ہے جنہوں نے نوجوانوں کے لیے خصوصی تجربات فراہم کیے۔ اب ہم ایسی ٹیکنالوجی لا رہے ہیں جو نہ صرف ان کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے بلکہ ان کی پرائیویسی کا بھی مکمل خیال رکھتی ہے۔
اے آئی سسٹم کیسے کام کرے گا؟
یہ نیا نظام صارف کی دیکھی جانے والی ویڈیوز اور اس کے مشاہداتی رویوں کی بنیاد پر اندازہ لگائے گا کہ وہ بالغ ہے یا نابالغ۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ سسٹم صرف لاگ اِن صارفین پر لاگو ہوگا، اور یہ اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ صارف نے اکاؤنٹ بناتے وقت کیا تاریخِ پیدائش درج کی تھی۔
اگر کوئی شخص لاگ اِن نہ ہو تو بعض ویڈیوز ازخود بلاک ہو جائیں گی، کیونکہ یوٹیوب کو اس کی عمر کا درست اندازہ نہیں ہو سکے گا۔
کم عمر قرار دیے جانے پر کیا ہوگا؟
اگر اے آئی سسٹم کسی صارف کو 18 سال سے کم قرار دیتا ہے، تو اس پر وہ تمام پابندیاں لاگو ہوں گی جو یوٹیوب پہلے سے نابالغ صارفین کے لیے استعمال کر رہا ہے، جن میں اسکرین ٹائم سے وقفے کی یاد دہانی، پرائیویسی الرٹس، مخصوص ویڈیوز اور ریکمینڈیشنز پر پابندی اور ذاتی نوعیت کے اشتہارات کی بندش شامل ہیں،
اگر کوئی بالغ صارف غلطی سے نابالغ تصور کر لیا جائے، تو وہ اپنی عمر کی تصدیق **شناختی کارڈ، کریڈٹ کارڈ یا سیلفی کے ذریعے کر سکتا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکا میں حکومت اور مختلف ریاستیں ویب سائٹس سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ نابالغ صارفین کو آن لائن فحش یا نامناسب مواد سے بچانے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کریں۔ جون کے آخر میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹیکساس کے ایک قانون کو برقرار رکھا، جس کا مقصد کم عمر افراد کو حساس مواد سے روکنا ہے، جس کے بعد دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
تاہم بعض تنظیمیں جیسے الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن اور سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی اس اقدام کو صارفین کی پرائیویسی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔