بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل سے وابستگی کا دعویٰ، عرب دنیا کا سخت ردعمل 

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ “گریٹر اسرائیل” کے تصور سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں خود کو ایک “تاریخی اور روحانی مشن” پر سمجھتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے حال ہی میں ایک اسرائیلی ٹی وی انٹرویو میں کہی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ گریٹر اسرائیل کے نظریے سے خود کو منسلک محسوس کرتے ہیں، تو نیتن یاہو نے جواب دیا: “بہت زیادہ۔” ان کے مطابق اس تصور میں صرف فلسطینی علاقے ہی نہیں، بلکہ اردن اور مصر کے بعض حصے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ کچھ عرب ممالک کے ساتھ بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
عرب ممالک کا شدید ردعمل
نیتن یاہو کے اس بیان پر عرب دنیا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
سعودی عرب نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منصوبے خطے میں استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔
اردن نے نیتن یاہو کے بیان کو اپنی علاقائی خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔
مصر نے اسرائیلی حکومت سے باضابطہ وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
عرب لیگ نے اسے ایک سنگین اور ناقابلِ قبول اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان عرب دنیا کی سلامتی، بین الاقوامی قوانین، اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔
یمن کی وزارتِ خارجہ نے نیتن یاہو کے بیان کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسی پالیسیوں کا تسلسل خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف لے جائے گا۔
یاد رہے کہ کچھ ماہ قبل اسرائیل کی جانب سے ایک متنازعہ “گریٹر اسرائیل” کا نقشہ جاری کیا گیا تھا، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے علاوہ اردن، شام، لبنان اور دیگر عرب علاقوں کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا تھا۔