بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کو نفرت نہیں، محبت، برداشت اور اتحاد کی ضرورت ہے،عرفان صدیقی

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کے لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان کے موجودہ حالات، آئین، وفاقی یکجہتی، اور جمہوری عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو نفرت نہیں بلکہ محبت، برداشت اور اتحاد کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے دوران انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی قوم ہو جو حکومت سے مکمل طور پر خوش اور متفق ہو، لیکن یہ اختلاف آئینی دائرے میں رہ کر ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔
عرفان صدیقی نے پاکستان کو ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ1947 کے مقابلے میں آج 2025 میں پاکستان کا مقام بلند تر ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اسے مزید مستحکم بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
  آئین ہمارا مشترکہ اثاثہ ہے
سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام اکائیوں کی شراکت سے وجود میں آیا، جس کی بنیاد پر وفاق مضبوط ہے۔آئین میں ترامیم کی گنجائش ہوتی ہے تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق بہتری لائی جا سکے، مگر اس کی بنیادیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سینیٹ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں کی حمایت کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا،جو وفاقی ہم آہنگی کی واضح مثال ہے۔
  نفرت بانجھ ہوتی ہے، محبت پائیدار
سینیٹرعرفان صدیقی نے سیاسی جماعتوں کو نفرت کی سیاست سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ محبت ہمیشہ باقی رہتی ہے، جبکہ نفرت بانجھ کھیتی ہے۔ پنجاب کو گالی دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ہمیں ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے بلوچستان اور پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں فوج اور پنجابی عوام نے دی ہیں، مگر ہم نے کبھی کسی قوم یا صوبے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔
  فوج ہماری اپنی ہے، ہمارا تحفظ ہے
افواج پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاکہ فوج ہماری ہے، ہمارے تحفظ کا قلعہ ہے۔ اس پر داغ ضرور ہوں گے، لیکن کیا ہمارے دامن پر کوئی داغ نہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستانی افواج نے کئی بار عالمی سطح پر اپنے سے کہیں بڑے دشمنوں کو شکست دی، جس کی دنیا معترف ہے۔
جمہوریت اور آئین کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر آج پاکستان میں مارشل لاء ہوتا تو شاید ہم یہاں بیٹھ کر ایسی باتیں نہ کر رہے ہوتے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہماری خودمختاری کا ضامن ہے، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے قومی وحدت کو فروغ دینا ہوگا۔
  صوبے ہمارے سر کا تاج ہیں
عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبے ہمارے سر کا تاج ہیں، اور ہر پاکستانی ہمارے دل کا حصہ ہے۔ مجھے پشاور پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ اچھا لگتا ہے — یہ اتحاد اور محبت کا پیغام ہے۔