بھارت نے امریکا کے لیے اپنی بین الاقوامی پوسٹل سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، ہفتے کے روز وزارت مواصلات کے تحت محکمہ ڈاک نے اعلان کیا کہ 25 اگست سے امریکا جانے والی تمام پوسٹل اشیاء کی بکنگ بند کر دی جائے گی۔
تاہم اس پابندی کے باوجود خطوط، کاغذی دستاویزات اور 100 امریکی ڈالر تک مالیت کے تحائف کی ترسیل بدستور جاری رہے گی۔ یہ فیصلہ امریکا کے نئے کسٹمز قوانین کے نفاذ کے پیش نظر کیا گیا ہے، جو رواں ماہ کے آخر سے لاگو ہوں گے۔
بھارتی محکمہ ڈاک کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث عملی مشکلات کا سامنا ہے، اور یہی تبدیلیاں پوسٹل سروس کی معطلی کی بنیادی وجہ ہیں۔ یہ نئے ضوابط امریکی قانون انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔
اس پیش رفت کو تجارتی کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف نافذ کیا ہے، جبکہ روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا، جس سے مجموعی طور پر بھارت پر درآمدی محصولات کا بوجھ 50 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
امریکا کے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اب بین الاقوامی سامان لے جانے والے تمام ٹرانسپورٹ کیریئرز، جنہیں امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) یا بین الاقوامی ڈاک نظام کے منظور شدہ فریقین میں شامل کیا گیا ہے، ان پر لازم ہوگا کہ وہ کسٹمز ڈیوٹی نہ صرف وصول کریں بلکہ مقررہ وقت پر جمع بھی کرائیں۔









