اسلام آباد (قاضی سمیع اللہ )ملکی صنعت اور تجارت کے شعبوں کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل خود مختار اداروں پر وزارتوں کے اعلیٰ افسران کا کنٹرول ،صنعتوں کے لئے ٹریڈ مارک اور کاپی رائٹس کے حقوق دینے والے اہم ادارے ’’آئی پی او‘‘ کے بعد مصنوعات کو سٹینڈرز اور کوالٹی لائسنس دینے والا ادارہ ’’ پی ایس کیو سی اے‘‘ گزشتہ 9ماہ سے سربراہ سے محروم ،دونوں اہم اداروں کے سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی صنعت کاروں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
پی ایس کیو سی اے کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزارت سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کے ذیلی و خود مختار ادارے پاکستان سٹنڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کی آسامی گزشتہ 9ماہ سے خالی پڑی ہے اور انتظامی و مالی اعتبار سے خو د مختار ادارے پی ایس کیو سی اے پر متعلقہ وزارت نے اپنا براہ راست کنٹرول رکھنے کے لئے وزارت کے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کو ڈائریکٹر جنرل کا’’ لُک آفٹر ‘‘ چارج دے رکھا ہے ۔
ذرائع کے مطابق پاکستان سٹینڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی سے 25ستمبر 2021کو عبدالعلیم میمن ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائرہوئے تھے لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے پر پہلے پی ایس کیو سی اے کے ایک ڈائریکٹر علی بخش سومرو کو ’’لُک آفٹر‘‘ چارج دیا گیا تھا اور اس کے بعد وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایڈیشنل سیکرٹری سید عطا الرحمان کو’’ لُک آفٹر ‘‘چارج دے کر بٹھادیاگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ایس کیو سی اے میں نئے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کے لیے انٹرویوز کیے گئے تھے لیکن انٹرویوز کے بعد ایک ایسے شخص کو ڈی جی لگانے کی کوشش کی گئی جس کا انٹرویوز میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی فہرست میں پانچواں نمبر تھا ۔
ذرائع کے مطابق پی ایس کیو سی اے میں مستقل ڈائریکٹر جنرل نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ 9ماہ سے نہ صرف پالیسی معاملات سرد خانے کی نذر ہوگئے ہیں بلکہ مصنوعات کے سٹینڈرز اور کوالٹی چیک کرنے کی غرض سے ما رکیٹ سرویلینس اور فیکٹریز کے سروے کا عمل بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض وزارتوں کی جانب سے خود مختار اداروں میں انتظامی سربراہان کے عہدوں کو خالی رکھنے کا مقصد وزارتوں کا مالی و انتظامی اعتبار سے خود مختار اداروں پر اپنا براہ راست کنٹرول رکھنا ہے جبکہ قواعد و ضوابط انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔
یاد رہے کہ وزارت تجارت کے ذیلی ادارے آئی پی او میں بھی گزشتہ ایک برس سے چیئر مین کی آسامی خالی پڑی ہے جسے کامرس ٹریڈ گروپ کے افسران کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے ۔
خودمختار اداروں پر وزارتوں کے اعلیٰ افسران کا کنٹرول








