وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے دوسرے مرحلے میں لیپ ٹاپس لاپتہ ہونے والے کا انکشاف ہواہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ اسکیم کے تحت دیے گئے 1011 لیپ ٹاپ چوری یا گمشدہ قرار دیے گئے، جن میں سے اب تک 784 کی ریکوری ہو چکی ہے جبکہ 227 لیپ ٹاپ اب بھی لاپتہ ہیں۔
12 ملین روپے کا مالی نقصان
آڈٹ حکام نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان لاپتہ لیپ ٹاپس سے **مجموعی طور پر 12 ملین (1 کروڑ 20 لاکھ روپے) کا نقصان ہوا ہے، لیکن افسوسناک طور پر تاحال ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت
اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے حکام نے بتایا کہ کچھ کیسز میں ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باعث مسائل پیدا ہوئے اور اب بھی 143 لیپ ٹاپ ایسے ہیں جن کی تفصیلات مکمل نہیں۔ یہ کیسز زیادہ تر کراچی اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور سے جُڑے ہوئے ہیں۔
کمیٹی کی سخت ہدایات
کمیٹی نے ہدایت دی کہ اگر ایک ماہ کے اندر لاپتہ لیپ ٹاپ واپس نہ کیے گئے تو متعلقہ افراد سے ریکوری کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران یہ بھی زور دیا گیا کہ آئندہ ایسی اسکیموں میں شفافیت اور ریکارڈ کی مکمل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم فیز 2 کے درجنوں لیپ ٹاپ لاپتہ، لاکھوں کا نقصان








