بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یورپی ممالک کی طرف سے گیس کی خریداری،پاکستان کی مشکلات میں اضافہ

کراچی(نیوزڈیسک)یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پیداہونے والے توانائی بحران سے جہاں ایندھن کے عالمی ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہےوہاں پاکستان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہورہا ہے، وفاقی کابینہ کے اہم رکن نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان یورپی ملکوں کی قوت خرید کا مقابلہ نہیں کرسکا جو ا نہی ذخائر کے نمایاں خریدار ہیں جن کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔
پٹرولیم کے وزیرمملکت مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایل این جی کے لئے کسی بولی دہندہ کی تلاش میں ناکامی کے بعد متعلقہ حکام بجلی پیدا کرنے کے لئے متبادل ذرائع کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اس میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے،ان کا کہناتھا کہ صورت حال یہ ہے کہ ہم نے تین سے چار بار ٹینڈرز دیئے مگر کسی نے ان پر کوئی دلچسپی ظاہرنہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ جب سے یوکرین کے ساتھ جنگ کے باعث روس سے رسد معطل ہوئی ہے یورپی ملک جہاں بھی دستیاب ہے وہاں سے گیس خرید رہے ہیںجس کے نتیجے میں ایل این جی جس کی قیمت دو ،اڑھائی سال پہلے چار ڈالرتھی اب چالیس ڈالر میں بھی دستیاب نہیں ہےچنانچہ روس کی جنگ نے اصل بحران پیدا کیا ہے۔
مصدق ملک نے ایک ماہ کے اندر فرنس آئل کے پانچ جہازوں کی درآمد کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس اس وقت وافر توانائی نہیں ہے، گیس دستیاب نہیں اور ہم مہنگی گیس خریدنے کے متحمل نہیں ہوسکتے چنانچہ ہم متبادل کا انتظام کررہے ہیں، کوئلے اور فرنس آئل کی پیداوار اوردرآمد میں حالیہ اضافہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ بڑے پیمانے پر بجلی کی قلت کے دوران پاکستان ایل این جی کے تین سلاٹس کے لیے بولی لگانے والے کو تلاش کرنے میں ناکام رہا اور جولائی کے آخری ہفتے کے لیے ایک اور سلاٹ کے لیے اب تک کے بلند ترین نرخ حاصل کیے کیونکہ یورپی صارفین نے روسی سپلائی سے پڑنے والے خلل کی تلافی کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ کی مقدار میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے جولائی کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں ایک، ایک آخری ہفتے میں دو کارگوز کے لیے 16 جون کو ٹینڈر جاری کیا تھا لیکن 2-3 جولائی، 8-9 جولائی اور 25-26 جولائی کے لیے کوئی بولی لگانے والا سامنے نہیں آیا۔
پی ایل ایل کی جانب سے جولائی کے پہلے ہفتے میں ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی یہ تیسری ناکام کوشش تھی، اس سے پہلے 31 مئی اور 7 جون کو جاری کیے گئے دو ٹینڈرز نے بالترتیب دو اور ایک بولی دہندہ کو راغب کیا لیکن کوئی بھی تکنیکی طور پر جوابدہ نہیں تھا، اس لیے بولیاں بغیر کھولے واپس کردی گئیں۔