اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی جانب سے امریکی ڈالر کی خریداری ، جواب تک 7.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، روپے کو کمزور رکھنے کا باعث بن رہی ہے ، تاہم بینک نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر روپیہ مضبوط ہو جائے تو درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے بیرونی شعبہ دباؤ میں آسکتا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں سٹیٹ بینک کے قائم مقام ڈ پٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے کہا کہ موجودہ ڈالر ، روپیہ شرح مبادلہ (تقریباً 282 روپے فی ڈالر ) ” منصفانہ ” ہے۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ اگر سٹیٹ بینک ڈالر خرید نا بند کر دے تو روپیہ مضبوط ہو جائے گا، لیکن اس سے در آمدات بھی بڑھ جائیں گی، جو ملکی معیشت کیلیے چیلنج ہو سکتی ہیں۔ اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کی۔ سٹیٹ بینک نے بریفنگ میں مہنگائی ، معاشی ترقی ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور شرح مبادلہ کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ڈاکٹر عنایت حسین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا بنیادی ہدف زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہے، بینک صرف اسی وقت ڈالر خریدتا ہے جب مارکیٹ میں زائد ڈالر موجود ہوں ، ماضی میں ذخائر غیر ملکی قرضوں سے بنائے گئے تھے ، مگر اب زیادہ تر ذخائر مقامی مارکیٹ سے خریداری کے ذریعے بنائے جارہے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے کہا کہ مارکیٹ میں بات ہو رہی ہے کہ روپے کی اصل قدر 250 سے 260 روپے فی ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے روپے کی قدر مصنوعی طور پر کم رکھی گئی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر عنایت نے جواب دیا کہ فی الوقت روپیہ نہ زیادہ قیمت کا حامل ہے نہ کم، یعنی اسے ” منصفانہ ” قیمت پر تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مستقبل میں شرح مبادلہ کا دارومدار زر مبادلہ کی دستیابی اور در آمدی حجم پر ہو گا۔ سٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امین لودھی نے کہا کہ دسمبر تک زر مبادلہ ذخائر کا ہدف 15.5 ارب ڈالر اور اگلے سال جون تک 17.5 ارب ڈالر ہے، لیکن یہ ابھی بھی تین ماہ کی درآمدی ضروریات (20 ارب ڈالر) سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے گا اور جی ڈی پی کے 1 فیصد کے اندر رہنے کی توقع ہے، ترسیلات زر اس خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی ، جو کہ اس سال 40 ارب ڈالر تک متوقع ہیں۔ امین لودھی نے کہا کہ مہنگائی عارضی طور پر 7 فیصد کے ہدف سے تجاوز کر سکتی ہے ، خاص طور پر اگر حالیہ 7 سیلابوں یا گیس کی قیمتوں میں متوقع اضافے کے اثرات شامل کیے جائیں، لیکن سالانہ مہنگائی دوبارہ 5 سے فیصد کی حد میں واپس آنے کی توقع ہے، موجودہ شرح سود (11) فیصد) بر قرار رکھی جائے تو مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے ، ورنہ یہ بڑھ سکتی ہے۔ نوید قمر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پر تنقید ہے کہ وہ حد سے زیادہ محتاط ہے ، حالانکہ معیشت کو نمو کیلیے تحریک درکار ہے۔ ادھر چیئر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختو نخوا کے نئے خم شدہ اضلاع پر حالیہ 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ پر نظر ثانی کیلیے کمیٹی قائم کر دی ہے، کمیٹی اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے گی، حالانکہ بجٹ میں اس ٹیکس کا نفاذ شدید دباؤ کے بعد کیا گیا تھا، اس یو ٹرن پر آئی ایم ایف کی جانب سے تحفظات کا اظہار متوقع ہے۔ ایف بی آر چیئر مین کے مطابق پہلے ان اضلاع کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا، جس کا دیگر علاقوں کی صنعتوں کو نقصان ہوا اور اس کا غلط فائدہ اٹھایا گیا، جس کے باعث حکومت نے 10 فیصد ٹیکس نافذ کیا تھا۔
ڈالر خریداری ، سٹیٹ بینک کا روپے کی قدر کمزور ہو نیکا اعتراف








