بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سندھ میں 3 ستمبر تک اونچے درجے کا سیلاب متوقع، تربیلا سے پانی کا اخراج روکنے کی درخواست

لاڑکانہ (نیوز ڈیسک) صوبہ سندھ میں یکم تا 3 ستمبر دریائے سندھ کے پہلے بیراج، گڈو بیراج پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی آمد متوقع ہے۔ مشرقی دریا پنجاب میں تباہی پھیلا رہے ہیں اور سندھ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں کمی کی جائے تاکہ صوبہ آنے والے دباؤ کو سنبھال سکے۔

رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) سے درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔ ارسا نے چشمہ بیراج پر پانی روکنے اور تربیلا سے اخراج کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے کہا کہ گڈو بیراج پر ساڑھے 6 سے 7 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ متوقع ہے۔ ان کے مطابق یہ اندازہ بارشوں کے پیٹرن پر منحصر ہے لیکن صوبہ مکمل تیاری کر رہا ہے اور بندوں پر عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

سیکریٹری آبپاشی سندھ ظریف خریف نے کہا کہ 2014 میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب خانکی بیراج پر 9 لاکھ 47 ہزار کیوسک پانی آیا تھا۔ اس بار گڈو بیراج پہلے ہی 5 لاکھ 10 ہزار کیوسک سے زائد کا سیلاب گزار چکا ہے۔

ادھر تربیلا ڈیم بدھ کے روز اپنی زیادہ سے زیادہ سطح 1,550 فٹ کے قریب تھا۔ شام 6 بجے اس کا اخراج 2 لاکھ 56 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو دریائے کابل کے ساتھ مل کر چند دن میں سندھ تک پہنچے گا۔ سندھ نے درخواست کی ہے کہ چشمہ بیراج پر پانی روکا جائے تاکہ مشرقی دریاؤں کے دباؤ کو سنبھالا جا سکے۔

ڈائریکٹر آپریشنز ارسا خالد ادریس رانا کے مطابق سندھ کی درخواست پر تربیلا سے پانی کا اخراج کم کر کے بدھ کی رات ایک لاکھ 55 ہزار کیوسک کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گڈو بیراج پر سیلابی دباؤ ساڑھے 6 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے لیکن کوشش یہ ہے کہ اخراج 6 لاکھ کیوسک